میں بیرون ملک میں رہتا ہوں، جب کرونا وائرس کی وباء پھیلی تھی تو ہماری حکومت نے ہمیں بطور تعاون کچھ مخصوص مدت تک کے لیےکاروباری اکاؤنٹ میں قرضہ دیا تھا یہ قرضہ صرف تجارت ہی کےلیے دیا جاتاہےتجارت میں تعاون اور استحکام کےلیے۔لیکن یہ قرضہ سود پر مشتمل تھا اور میرے بزنس اکاؤنٹ کےلیے کرنٹ وسیونگ کی سہولت حاصل ہے۔وہ قرضہ میں قسط وار ادا کر رہا ہوں جو کہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل ہو جائے گا، دوسرے بزنس اکاؤنٹ میں رقم اس قرض والی رقم کے علاوہ موجود ہے جس پر بینک کی طرف سے نفع آتارہتا ہے ۔کیا اس نفع کی رقم سے میں حکومت کا دیا ہوا قرضہ اور سود واپس لوٹا سکتا ہوں ؟ جو بچ جائے تو میں اس کو کس مصرف میں لا سکتا ہوں؟
صورت مسئولہ میں آپ کا سود پر قرضہ لینا اورسودی اکاؤنٹ بنا کر سود حاصل کرنا دونوں ناجائز معاملے ہیں ۔ لہذا ذاتی رقم پر حاصل شدہ سود سے حکومت کا قرضہ ادا کرنا جائز نہیں ۔نیز سودی قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کی غرض سے سودی اکاؤنٹ کو جاری رکھنا بھی جائز نہیں، البتہ ماضی میں اس اکاؤنٹ پر جو اضافہ وصول ہوگیا ہےاس کا تصفیہ اس طرح کر سکتے ہیں کہ ایک اکاؤنٹ سے لے کر دوسرے میں دے دیں،تاہم آئندہ کےلیے یہ سلسلہ بالکل بند کردیں۔ (ماخذ فتاوی عثمانی 3/280مکتبہ معارف القرآن)
المبسوط للسرخسي (10/ 95) دار المعرفة
ولا يجوز شيء من ذلك في قول أبي يوسف – رحمه الله -؛ لأن المسلم ملتزم أحكام الإسلام حيثما يكون، ومن حكم – الإسلام حرمة هذا النوع من المعاملة، ألا ترى أنه لو فعله مع المستأمنين منهم في دارنا لم يجز فكذلك في دار الحرب۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1/228)دار العلوم کراتشی
ونؤكد أن الفائدة هي عين الربا والقول الأصح المختار عند جمهور الفقهاء هو أن الربا حرام ولو أخذ من حربي فلا يجوز لمسلم أن يأخذه وينفقه في مصالح نفسه۔
رد المحتار (6/ 385)سعيد
ویردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔