ایک مسئلہ درپیش ہے ، قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا حل قابل طلب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں لوگ سودا خرید نے کےلیے آتے ہیں ادھار پر لیکن مشتری ،بائع دونوں کو معلوم ہے کہ ادھار سودا دینے پر قیمت زیادہ ہوگی ، مگر مشتری کو معلوم نہیں کہ بازار میں اس چیز کی قیمت کیاہے۔ اور اب بائع ادھار پر جو اضافہ لگا رہاہے وہ کیا ہے۔ اور ادھار کی کوئی مدت بھی متعین نہیں، پھر مشتری بائع کو منہ بولے پیسے کچھ مدتِ غیر متعین کے بعد دیدیتاہے کیا بغیر قیمت معلوم کئے مدتِ مجہول پر اس طرح عقد کرنا درست ہے؟ اگر نہیں تو کیوں ؟ اور اگر مشتری بائع کےساتھ سامان کی قیمت متعین کرکے متعین اضافہ کے ساتھ ادھار پیسے ادا کردے تو پھر بھی متعین نہیں کی تھی۔
اسی طرح اگر اصل قیمت بھی معلوم ہو لیکن بائع کہے کہ اگر ایک مہینے بعد پیسے ادا کروگے تو قیمت میں اضافہ ہوگا، پھر آپ جوں جوں ہی قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کروگے تو قیمت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ تو اس کا کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکرکردہ صورت میں فریقین کو چاہئےکہ وہ سامان کی قیمت کی تعیین کے لئےآپس میں کوئی اصول طےکرلیں مثلاًیہ کہ بازار میں جواس شئےکی قیمت ہوگی اس پربیع ہوگی یایوں بھی طے کرسکتےہیں کہ بازار میں جو قیمت ہوگی اس پراتنے فیصداضافہ کرکے شئے کی قیمت متعین ہوگی۔طے کئےبغیردوکانداراپنی مرضی سے قیمت لگاتا رہے اس طریقےسےاجتناب کیا جائے۔البتہ اگراس طرح پہلےبیع کرچکےہیں توحساب کےوقت گزشتہ بیع درست ہوکراشیاء کااستعمال حلال ہوجائےگا۔
اوروہ صورت جس میں قیمت کی ادائیگی میں تاخیرپرقیمت میں اضافہ کیاجارہاہےوہ شرعاًدرست نہیں،اس کی جائزصورت یہ ہےکہ عقدکرتےوقت ہی ثمن اور مدت ِادائیگی کی تعیین کی جائے پھراس طے شدہ سےادائیگی میں تاخیرہونےکی وجہ سے مزیداضافہ وصول نہ کیاجائے۔
فقہ البیوع(1/72)معارف القرآن
ان کان الثمن مجھولاً وقت الاخذ،اواتفق الفریقان علی انہ یقع علی اساس سعر السوق ولکن سعر السوق متفاوت تفاوتاً فاحشاً بحیث یقع الاختلاف فی تحدیدہ،فان البیع لاینعقد عند الاخذ،وانمایقع عندتصفیۃ الحساب،ولکنہ یستند حینئذ الی وقت الاخذ،فیثبت الملک للاٰخذ من وقت الاخذ،وتھل تصرفاتہ من ذالک الحین۔
فقہ البیوع(1/523)معارف القرآن
وإن زيادة الثمن من أجل الأجلو وإن كان جائزا عند بداية العقد ولكن لا تجوز الزيادة عند التخلف في الاداء فإنه ربًا۔
بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ(1/66) معارف القرآن
ان کان الثمن مجھولاً وقت الاخذ،اواتفق الفریقان علی انہ یقع علی اساس سعر السوق ولکن سعر السوق متفاوت تفاوتاً فاحشاً بحیث یقع الاختلاف فی تحدیدہ،فان البیع لایصح عند الاخذ،وانمایقع عندتصفیۃ الحساب،ولکنہ یسند حینئذ الی وقت الاخذ،فیثبت الملک للاٰخذ من وقت الاخذ،وتھل تصرفاتہ من ذالک الحین بعد اداء الثمن۔