بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تجہیز و تکفین میں کون سے اخراجات شامل ہوں گے

سوال

میری بہن کا انتقال ہوگیا ہے اور بڑا بھائی ہونے کے ناطےمجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جو بھی اشیاء اس کی ملکیت میں تھیں ان کے وارثوں تک پہنچاؤں۔ اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے
مرحومہ کافی عرصے سے میرے چھوٹے بھائی کے مکان میں والدہ اور دوسرے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ میری بہن ملازمت کرتی تھیں اور ذاتی کمائی سے ۲ مرلہ کا گھر خرید رکھا تھا اور کرایہ پر دیا ہوا ہے۔اور اس گھر سے متعلق وصیت کی ہوئی ہے کہ جب تک والدہ زندہ ہیں اس گھر کا کرایہ خرچہ میں استعمال ہوگا۔ اور اپنے بھائی کو وکیل بنایا ہوا ہے کہ کسی مدرسہ یا مسجد کے نام ٹرانسفر کردینا۔
مزید باقیات میں اسکے شادی کے زیور کے علاوہ اپنی کمائی میں سے جب میں ملازمت کے سلسلہ میں سعودی عرب جانے لگا تو اسنے کڑے اور چوڑیاں مجھ سے منگوائے جو اسکی موت کے بعد اسکے ہاتھوں سے اتارے گئے۔ یہ بھی سوال ہے کہ آیا یہ زیور بھی وارثوں میں بشمول اسکے شوہر شامل ہوگا؟ میری بہن مرحومہ نے ہر ایک کے پیسوں کے ساتھ چٹ لگائی ہے۔
۱۔ امی جان کے 142820روپے۔ ۲۔ بھائی کے 120000روپے۔ ۳۔ دوسرے بھائی کے 38500روپے۔ ۴۔ مرحومہ نے اپنے لیے نئے نوٹ 5410روپے رکھے تھے۔ ۵۔ زکوۃ دینے کیلیے 36000( غریبوں میں تقسیم کردیئے ہیں) ۶۔نامعلوم ۔ غالبًا بکروں کی قربانی کے لیے 82000( ہر سال امی ، ابو کیلئے قربانی دیتے تھے) ۸۔ ایک تھیلی میں 50000 ، میں نے مدرسہ میں صدقہ اسکے نام پر کردیئے۔ ۹۔ نو مسلم کو 1000 روپے اسکی طرف سے دیئے۔ ۱۰۔ اسکے گھر کا سال 2022 اور 2023 کا پراپڑٹی ٹیکس 22150 روپے ادا کیا۔ ۱۱۔ گھر کے کرایہ دار کی سیکورٹی کی چٹ ملی جس پر لکھا تھا 8500 میں نے اپنی بہن کے یتیم بیٹے کی شادی پر دیے۔ اب یہ قرض اسکے حساب سے کاٹنا ہوگا۔ ۱۲۔ تدفین کا خرچہ 96000روپے۔ نوٹ: تدفین والے دن 8گھنٹے کے قریب بجلی نہیں تھی اس لئے جنریٹر چلانا پڑا اور پٹرول کا اچھا خاصا خرچہ آیا۔ دوسری میت کےلیے برف کے بلاک کافی ڈھونڈ کر لائے گئے۔ ۱۳۔ قل ( قرآن خوانی ) کا خرچہ 41630 روپے۔ ۱۴۔ قرآن خوانی ، چالیسواں 28350 روپے۔ ورثاء: خاوند، ایک بہن ، چار بھائی اور والدہ صاحبہ۔
جیولری کی تفصیل مارکیٹ سے دو دکانوں سے تخمینہ لگوایا جو درج ذیل ہے۔ ۱۔ دو کڑے اور دو چوڑیاں جو شادی والا زیور دیکر بنوائے 7،95،000 روپے ۲۔ انگوٹھیاں 84،000 روپے ۳۔ دو کانٹے 1،75،000 روپے ۴۔ مرنے کے بعد انگلی سے اتاری انگوٹھی۔ 1،25،000 روپے ۵۔ سعودی دوکڑے اور ۴ چوڑیاں۔ 9،40،000 روپے ٹوٹل 21،19،000 روپے تنقیح: سائل سے زبانی یہی معلوم ہوا کہ مرحومہ نے اپنے ۲ مرلہ کے مکان کو وقف کرنے کی وصیت بار ہا کی تھی۔ اگرچہ وصیت نامے میں صرف منافع دینے کی بات ہے مگر زبانی انہوں نے اصل مکان کو بھی وقف کرنے کا کہا تھا۔
تدفین پر آنے والے اخراجات کی تفصیل: قبر کی کھدائی، ایمبولینس، غسل، ڈاکٹر کا بل، پلاسٹک قبر کے اوپر، چادریں کھیس وغیرہ، برف ، رکشا، ٹینٹ کرسیاں وغیرہ، پلیٹس ڈسپوزیبل، پانی کی بوتلیں، کرایہ جنریٹر، پٹرول جنریٹر اور دیگ بریانی کل خرچہ 96،000 روپے
قل والے دن : دیگ قورمہ، فروٹ، چنے، میٹھے چنے، پلیٹس ، شاپنگ بیگ، نان، نیپکن وغیرہ، برف اور پانی کل خرچہ 41،630 روپے قرآن خوانی ، چالیسواں کے دن: دیگ بریانی، پانی کی بوتلیں، برف، دہی، کریہ کرسی وغیرہ، پلیٹس اور فروٹ کل خرچہ 28،350 روپے تدفین ، قل اور چالیسویں پر کل خرچہ 1،65،980 روپے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ (نور جہاں )کے تجہیز وتکفین کا خرچہ اس کے شوہر پر لازم ہے اور اس میں صرف تدفین، ایمبولنس،غسل، پلاسٹک اور وہ اشیاء جن کا تعلق براہ ست میت کے تجہیز وتدفین سےہو کا خرچہ شوہر سے لیاجائےگا اس کے علاوہ مہمانوں کےلئے ٹھنڈاپانی ،ٹینٹ، کرسیاں، دیگ بریانی وغیرہ،قل والے دن ،قرآن خوانی اور چالیسواں کے خرچے شوہر پر نہیں ڈالے جاسکتے، بلکہ اگر یہ خرچے تمام ورثا کی اجازت سے ہوئےہیں، تو مشترکہ ترکہ میں سے لئے جائیں اور اگر ان کی اجازت کے بغیر ہوئے ہیں تو پھر جس نے کئے ہیں اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے ،وہ کسی سے اس کامطالبہ نہیں کرسکتا۔مرحومہ کےپاس جو امانتیں تھیں وہ ان کے مالکان کو واپس کی جائیں: جیسے امی جان، دونوں بھائیوں کی امانتیں ، اور اس کےذمہ جو قرض ہے: کرایہ دار کی سیکورٹی کی رقم وغیرہ، وہ اس کے ترکہ میں سے اداکیاجائے۔
اور اگر کسی پر مرحومہ کا قرض ہو جیسے بہن کے یتیم بیٹے پر تو وہ ان سے لے کر ترکہ میں شامل کیاجائے۔ اس کے بعد مرحومہ نے جو وصیت کی ہے اس پر اس کے بقیہ مال کے ایک تہائی مال تک عمل کیاجائے گا، سائل سے فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ مرحومہ نے اپنے2مرلہ مکان کو مسجد یامدرسہ کو دینے کی وصیت کی ہے ، لہذا اگر اس کی قیمت ایک تہائی سے کم یا ایک تہائی تک ہے تو مرحومہ کی وصیت کے مطابق مذکورہ مکان مسجد یا مدرسے کو دیاجائے اگر ایک تہائی سے زیادہ ہے تو پھر تمام ورثا سے اجازت لینا ضروری ہےورنہ صرف ایک تہائی تک عمل ہوگا۔ واضح رہے کہ مرحومہ کے انتقال کے بعدمذکورہ مکان کا کرایہ والدہ کے گھر کے اخراجات میں استعمال کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ وارث کے حق میں وصیت ہے جوکہ شرعًا جائز نہیں ہے۔
جس رقم کو چِٹ لگاکر زکات کےلئے علیحدہ کر لیاتھا اگر چہ یہ بھی مرحومہ کا ترکہ ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ تمام ورثا کی اجازت سے اس کو زکات کے طور پر مرحومہ کی طرف سے ادا کردیا جائے تاکہ مرحومہ پر بوجھ نہ رہے۔ اورجوپیسے مدرسہ ،امامِ مسجداور نومسلم کو مرحومہ کی طرف سے صدقہ کئےاگر وہ تمام ورثا کی اجازت سے کئے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ جس نے کئے اس کی طرف سے تبرع ہے۔ قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعدبقیہ مال کے کل باون(52)حصے کرکےستائیس( 27 )شوہر کو، چار، چار (4،4 ) ہر بھائی کو،دو( 2)بہن کو اورنو( 9)حصے والدہ کودئیےجائیں۔
سنن ابن ماجه (2/ 906) دار إحياء الكتب العربية
إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث۔
السراجی،سراج الدین السجاوندی(5/600) المکتبۃ البشری
قال علماؤنا:تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ:الاول:ببدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر،ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ،ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 359)
إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجيزوا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث. اهـ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 206)
ثم اعلم أن الواجب عليه تكفينها وتجهيزها الشرعيان من كفن السنة أو الكفاية وحنوط وأجرة غسل وحمل ودفن دون ما ابتدع في زماننا من مهللين وقراء ومغنين وطعام ثلاثة أيام ونحو ذلك، ومن فعل ذلك بدون رضا بقية الورثة البالغين يضمنه في ماله۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 352) دار الكتب العلمية
(ولنا) أنه لما ملك تملك حال حياته بعقد الإجارة، والإعارة، فلأن يملك بعقد الوصية أولى؛ لأنه أوسع العقود ألا ترى أنها تحتمل ما لا يحتمله سائر العقود من عدم المحل، والحظر، والجهالة، ثم لما جاز تمليكها ببعض العقود، فلأن يجوز بهذا العقد أولى، والله سبحانه وتعالى الموفق للصواب (وأما) قوله إن الوصية وقعت بمال الوارث، فممنوع، وقوله: ملك الرقبة عند موت الموصي مسلم لكن ملك المنفعة يتبع ملك الرقبة إذا أفرد المنفعة بالتمليك وإذا لم يفرد الأول ممنوع والثاني مسلم وهنا أفرد بالتمليك فلا يتبع ملك الرقبة وهذا لأن الموصي إذا أفرد ملك المنفعة بالوصية، فقد جعله مقصودا بالتمليك، وله هذه الولاية، فلا يبقى تبعا لملك الذات بل يصير مقصودا بنفسه، بخلاف الإعارة؛ لأن المعير، وإن جعل ملك المنفعة مقصودا بالتمليك لكن في الحال لا بعد الموت؛ لأنه إنما يعار الشيء للانتفاع في حال الحياة عادة لا بعد الموت، فينتفي العقد بالموت. وأما الوصية، فتمليك بعد الموت، فكان قصده تمليكه المنفعة بعد الموت، فكانت المنافع مقصودة بالتمليك بعد الموت، فهو الفرق، ونظيره من وكل وكيلا في حال حياته، فمات الموكل ينعزل الوكيل، ولو أضاف الوكالة إلى ما بعد موته؛ جاز حتى يكون وصيا بعد موته، وسواء كانت الوصية بالمنافع مؤقتة بوقت من سنة أو شهر، أو كانت مطلقة عن التوقيت؛ لأن الوصية بالمنافع في معنى الإعارة؛ لأنها تمليك المنفعة بغير عوض، ثم الإعارة تصح مؤقتة، ومطلقة عن الوقت۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/34)رشيدية
رجل قال إن مت من مرضي هذا فقد وقفت أرضي لا يصح برئ أو مات؛ لأنه علقه بشرط وتعليق الوقف بالشرط لا يصح، وإن قال إن مت من مرضي هذا فاجعلوا أرضي وقفا جاز والفرق أن هذا تعليق التوكيل بالشرط وذلك يجوز۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس