ایک آدمی شادی کرتا ہے اور دو لاکھ مہر متعین کرتا ہے اور اس وقت اس کے پاس نقد پیسے نہیں ہوتے تو وہ آدمی اپنی بیوی کے پا س کمرہ ،گھر وغیرہ رکھوا دیتا ہے اور ایک یا دو سال بعد مہر ادا کرنے کے بعد جو کمرہ بیوی کو دیا تھا وہ واپس لے لیتا ہے ۔شرعاً ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز لڑکے اور لڑکی کا باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوا ور مہر بھی مقرر ہے تو اب رخصتی سے قبل ان کا آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنا اور باتیں کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں مہر کے بدلے رہن کے طور پر کمرہ وغیرہ رکھوانا جائز ہے ،نیز نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے لڑکے لڑکی ایک دوسرے سے بات کرنا اور دیکھنا شرعاٍ جائز ہے ، البتہ کچھ خاندان اور قبائل کے عرف میں یہ بات ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہے ، لہذا انکے عرف کو بھی مد ِ نظر رکھا جائے تا کہ کسی فساد کا اندیشہ نہ ہو اور مصلحت اسی میں ہے کہ نکاح کے بعد جلد رخصتی کا اہتمام کیا جائے۔
بدائع الصنائع (6/ 135) دار الكتب العلمية
أما ركن عقد الرهن فهو الإيجاب والقبول وهو أن يقول الراهن: رهنتك هذا الشيء بما لك علي من الدين أو يقول: هذا الشيء رهن بدينك، وما يجري هذا المجرى، ويقول المرتهن: ارتهنت أو قبلت أو رضيت، وما يجري مجراه ۔
الدر المختار (3/ 3) دار الفكر
(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجلمن امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي۔
البحر الرائق (3/ 85) دار الكتاب الإسلامي
ذكر في البدائع أن من أحكامه ملك المتعة، وهو اختصاص الزوج بمنافع بضعها وسائر أعضائها استمتاعا أو ملك الذات والنفس في حق التمتع۔