بیوٹی پارلر میں جو کام ہوتے ہیں ان میں سے بعض کام جائز ہیں ان کا سیکھنا بھی جائز ہے مثلا:شرعی حدود میں رہتے ہوئے چہرے کا میک اپ کرنا یا چہرے سے کسی عیب (زائد بال وغیرہ)کو زائل کرنا اور اگر کسی خاتون کی ابرو انتہائی موٹے ہوں جو مردوں کے مشابہ ہوں تو ان کو تراشنا کہ عام معمول کے مطابق ہوجائیں ،بالوں کو بلیچ کرنا یا دوسروں رنگوں سے رنگنا،جو بال عوماً نیچے اوپر ہوتے ہیں انہیں صرف نیچے سے برابر کرنے کے لیے معمولی تراشنا،ناخن تراشنا ،مہندی لگانا،اور مساج(ناف اور گھٹنے کی جگہ کے علاوہ)کرنابشرطیکہ یہ تمام کام ستر و حجاب کی پاسداری کے ساتھ ہو اور مرد و زن کے اختلاط سے پاک ہوں اور عورتوں کے یہ کام عورتیں ہی کریں۔
تکملۃ فتح الملھم(4/115)دارالعلوم کراتشی
واکثرماتفعلہ النساءفی الحواجب واطراف الوجہ ابتغاءللحسن والزینۃوھوحرام بنص ھذالحدیث۔امااذانبتت للمراۃ لحیۃاوشارب اوعنفقۃفاخذھا حلال عندالحنفیۃوالشافعیۃ۔۔۔۔۔۔والحاصل ان کل مایفعل فی الجسم من زیادۃ اونقص من اجل الزینۃ بمایجعل الزیادۃاوالنقصان مستمراًمع الجسم،وبمایبدومنہ انہ کان فی اصل الخلقۃھکذا،فانہ تلبیس وتغییرمنھی عنہ،واما ماتزینت بہ المراۃلزوجھامن تحمیرالایدی اوالشفاہ اوالعارضین بمالایلتبس باصل الخلقۃ فانہ لیس داخلاًفی النھی عندجمھورالعلماء۔واماقطع الاصبع الزائدۃونحوھافانہ لیس تغییراًلخلق اللہ وانہ من قبیل ازالۃ عیب اومرض فاجازہ اکثرالعلماءخلافالبعضھم
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2682) رشیدیۃ
وتحرم أيضاً عمليات التجميل النسائية التي يراد بها تصغير المرأة الكبيرة (عمليات الشد) روى أحمد عن عائشة قالت: «كان النبي صلّى الله عليه وسلم يلعن القاشرة والمقشورة، والواشمة والموشومة، والواصلة والموصولة» وروى أحمد أيضاً عن ابن مسعود قال: «سمعت رسول الله صلّى الله عليه وسلم ينهى عن النامصة والواشرة والواصلة والواشمة إلا من داء»۔
والواشرة: التي تَشِر الأسنان حتى تكون لها أشْر، أي تحديد ورقّة، تفعله المرأة الكبير، تتشبه بالحديثة السن
والقاشرة: التي تعالج وجهها أو وجه غيرها بالغُمرة (طلاء يتخذ من الوَرْس) ليصفو لونها، والمقشورة: التي يفعل بها ذلك، كأنها تَقْشِر أعلى الجلد، ويبدو ما تحته من البشرة، وهو شبيه بفعل النامصة الوشم والنمص والتفليج حرام على الرجال والنساء، الفاعل والمفعول به، لورود اللعن عليه، مما يدل على تحريمه