بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سرمایہ لگانے والے کیلیے متعین رقم کی صورت میں نفع متعین کرنا

سوال

میرا ایک دوست افریقی ممالک میں راشن کا سامان بھیجنے کا کام کرتا ہے اب اس کے پاس ایک آرڈر ہے مگر اس کے پاس رقم نہیں اب وہ چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا دوست پیسے لگائے اور جب ۳ ماہ بعد رقم آئے گی تو ایک لاکھ پر نو ہزار منافع دے گا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ معاملہ شرعاً جائز نہیں البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ اس معاملے کو مضاربہ کی بنیاد پر عمل میں لایا جائے جس کی صور ت یہ کہ ایک شخص کی طرف سے سرمایہ ہو جبکہ دوسرے شخص کی طرف سے محنت ہو اور منافع آپس میں فیصد کے لحاظ سے طے کیا جائے، کسی فریق کے لیے کوئی متعین رقم نفع کے طور پر طے کرنا درست نہیں اور اگر نقصان ہوتو اسے حاصل شدہ نفع سے پورا کیا جائے اگر اس سے تلافی نہ ہوسکے تو سرمائے سے پورا کیا جائے اور محنت کرنے والے پر مالی نقصان نہیں آئے گا بشرطیکہ اس نے کوئی کوتاہی نہ کی ہو۔
الھدایۃ (3/200) دار احیاء تراث العربی
ومن شرطھا ان یکون الربح بینھما مشاعا لا یستحق احدھما مسماۃ من الربح۔
مجلۃ الاحکام العدلیۃ (4/332) رشیدیۃ:(1412و1411)
یشترط فی المضاربۃ کشرکۃ العقد کون راس المال معلوماً وتعیین حصۃ العاقدین من الربح جزاً شائعا کالنصف و الثلث… اذالم تکن حصۃ العاقدین من الربح جزاً شائعاً بل تعین لاحدھما من الربح کذا قرشاً فتفسد المضاربۃ۔
رد المختار (5/648) دار الفکر
(قولہ بطل الشرط) کثیر الخسران علی المضارب۔
تبیین الحقائق (5/521) دار الکتب العلمیۃ بیروت
ویبطل الشرط کشرط الضیعۃ علی المضارب …یلزم صاحب المال دون غیرہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس