کیا شریعت میں خلاف ِ طبیعت باتوں یا کاموں پر گرفت کی اجازت ہے؟
اگر اجازت دیتی ہے تو کس حد تک؟
اگر شریعت اجازت نہیں دیتی تو خلافِ طبیعت باتوں یا کاموں پر گرفت کرنے والے کسی بھی فرد کے بارے شریعت کیا کہتی ہے پھر چاہے وہ گرفت فرمانے والے والدین ہوں دیگر بڑی عمر کے افراد ہوں یا ہم عمر لوگ ہی کیوں نہ ہوں؟
سوال مذکور کا حاصل یہ ہے کہ کیا مزاج اور طبیعت کے خلاف عمل کرنے والے کی گرفت اور سرزنش کی جاسکتی ہے ؟ اس کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرفت کا حق کس کو حاصل ہوتا ہے اور کس طرح کے عمل پر حاصل ہوتا ہے؟
یاد رکھیں کہ سرزنش اور گرفت کا حق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جو کسی درجے کی تولیت یعنی نگرانی اور سرپرستی رکھتا ہو۔ ایسا شخص شرعی حدود میں رہتے ہوئے اپنے ماتحتوں کی سرزنش اور گرفت ایسے عمل پر کرسکتا ہے جوخلاف شرع ہو،نیز اس میں بھی حکمت اور موعظہ حسنہ کو اختیار کرنا مفید اور باعثِ اصلاح ہے.اور اگر وہ عمل خلاف شرع نہ ہو لیکن سرپرست اپنے ماتحت کے لئے اس کو حکمت کے خلاف سمجھتا ہو تو ایسی صورت میں ماتحت کو چاہیے کہ وہ اپنے بڑوں کی رائے کا احترام کرے،ان کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح نہ دے۔البتہ ایسا عمل جو صرف خلاف مزاج ہو اور خلاف شرع نہ ہو تو سرپرست کو ایسے عمل پر نرمی اور مناسب طریقے سے اصلاح کر دینی چاہیے،ردِ شدید سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
:قال اللہ تعالی
{ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ} [النحل: 125]
:قال اللہ تعالی
{لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ} [آل عمران: 159]
مرقاة المفاتيح (8/ 3209) دار الفكر، بيروت
وينبغي للآمر والناهي أن يرفق ليكون أقرب إلى تحصيل المطلوب، فقد قال الإمام الشافعي: من وعظ أخاه سرا فقد نصحه وزانه، ومن وعظه علانية فقد فضحه وشانه۔
مرقاة المفاتيح (8/ 3208) دار الفكر، بيروت
عن أبي سعيد الخدري – رضي الله عنه – عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – قال: ” «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان۔
الموسوعة الفقهية(39/123)علو الاسلامیۃ
المنکر فی الاصلاح ما لیس فیہ رضا اللہ من قول او فعل۔