مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک آدمی نے ایک دکان میں پینتالیس سال سے زائد کا عرصہ گزارا اور اس دکان کے مالکان کو بہت نفع پہنچایا اور کبھی غلط طریقہ سے نہیں کمایا انہیں چالیس سے پینتالیس ہزار تنخواہ ملتی تھی،نیز وہ دکان سے اکثر قرض بھی لیا کرتے تھے ،اور جب دکان چھوڑی تو آخری تنخواہ بھی نہیں لی تھی اور یہ بات انہوں نے زندگی میں کہی کہ میں دو لاکھ اسی ہزار کا مقروض ہوں اور یہ رقم انہوں نے دکان کے مالکان سے لی تھی پھر جب ان کی وفات ہوگئی تو ورثا ء نے قرض کی ادائیگی کے لیے رابطہ کیا اور یہ کہا کہ ہم تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کریں گے کچھ عرصہ بعد جب مالکان سے اکاؤنٹ نمبر مانگا تو انہوں نے کہا کہ سولہ لاکھ کا قرض لیا تھا، لہذا مہربانی فرماکر مذکورہ مسئلے کی شرعی راہ نمائی فرمائیں ۔ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے چونکہ اپنی زندگی میں صرف دو لاکھ اسی ہزار کے قرض کا اقرار کیا تھا ،لہذا اب اس کے ورثاء پر لازم ہے کہ اگر اس (مرحوم)کے ترکے میں ما ل ہے تو تقسیم ِ میراث سے پہلے اس کے قرض کی ادائیگی کریں ، نیز دکان کے مالکان نے جو سولہ لا کھ کے قرض کا دعویٰ کیا ہے تو محض دعویٰ کی بنیاد پر مرحوم کے ورثاء پر اس قرض کی ادئیگی لازم نہیں بلکہ مالکان کے پاس گواہ یا دستاویزی ثبوت ہوں تو وہ ان کی بنیاد پر عدالت میں کیس دائر کر یں پھر اگر عدالت شرعی اصولوں کے مطابق مرحوم کے ورثاء پر ادائیگی لازم کرتی ہے تو ورثاء پر مرحوم کے ترکے میں سے یہ رقم ادا کرنا لازم ہوگی ۔
:سنن الترمذي (ابواب الاحکام،باب ماجاء ان الیمین علی المدعی )
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه
:مجلة الأحكام العدلية (ص: 17) نور محمد، كراتشي
(المادة 8) : الأصل براءة الذمة
:الموسوعة الفقهية الكويتية (20/ 273) وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية
فمن ادعى دينا على آخر، فأنكر المطلوب كان المنكر مدعى عليه، لأن الأصل براءة الذمة، وقد عضده هذا الأصل، فكان القول له بيمينه إن لم تكن للمدعي بينة
:بدائع الصنائع (6/ 225) دار الكتب العلمية
وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله – عليه الصلاة والسلام – «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل – عليه الصلاة والسلام – البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين۔
:الاختيار لتعليل المختار (2/ 130) مطبعة الحلبي
قال: (وإن قال له علي أو قبلي فهو دين) لأنه مستعمل للإيجاب عرفا، والذمة محل الإيجاب فيكون دينا
:الفتاوى الهندية (6/ 447) دار الفكر
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف۔۔ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض، أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض، فإن كان الكل ديون الصحة أو ديون المرض فالكل سواء لا يقدم البعض على البعض۔