دو بھائی کاروبار میں شریک تھے بڑے بھائی کی اولاد نہیں تھی تو چھوٹے بھائی نے اپنے دو بچے ( بیٹا، بیٹی) بڑے بھائی کو دے دیے اب کاروبار کچھ عرصے بعد تعلقات کی خرابی کی وجہ سے تقسیم کرنا پڑا اور کاروبار تقسیم ہوگیا ، دونوں بھائیوں میں سے چھوٹے بھائی نے الگ ہونے کے بعد اپنے حصے کا کاروبار اپنے تین بیٹوں میں تقسیم کردیا اور جو بچے بڑے بھائی کو دیے ان کے بارے میں بڑے بھائی نے الگ ہوتے وقت کہا کہ میں اپنے کاروبار میں حصہ دوں گا۔ اب کچھ عرصے بعد دونوں بھائیوں میں تعلقات بھی بحال ہوگئے اور بڑے بھائی نے کاروبار کو تقسیم کردیا پر اس تقسیم پر منہ بولی بیٹی ( جو چھوٹے بھائی نے اپنے بڑے بھائی کو دی تھی) کو اعتراض ہے کہ مجھے صحیح تقسیم کرکے حصہ نہیں دیا گیا اب سوال یہ ہے کہ اس طرح منہ بولی بیٹی کا جائیداد میں سے حصہ مانگنا اور دینے پر کمی کا دعوٰ ی کرکے ناراض ہونا شرعا کیسا ہے؟
:سنن الدار قطنی(3/424)
عن ابی حرۃ الرقاشی، عن عمہ، ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لایحل مال امری مسلم الا عن طیب نفس۔
:فتح القدیر للکمال ابن الھمام(10/167)
لا جبر علی التبرعات۔
:حاشیۃ شرح الوقایۃ (7/139)
ولا جبر علی المتبرع ، ولا رجوع فی التبرعات۔
:دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام (1/97)
لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی۔