ہمارے گھر کے افراد میں والد صاحب، والدہ محترمہ ، ۳ بہنیں اور ۲ بھائی ہیں۔
۱۹۹۲ میں ہمارے والد صاحب نے ۳ مرلہ کا پلاٹ خریدا تھا اور اس میں ایک منزلہ مکان بنایا۔ والد صاحب نے دوسری منزل کی تعمیر شروع کی اس میں بڑی ہمشیرہ نے کچھ رقم دی۔ ۲۰۱۲ میں وہ ڈبل سٹوری گھر ۲۵ لاکھ میں فروخت کیا۔ اور ان پیسوں میں ایک لاکھ روپے والدہ محترمہ نے لیا۔
اور ہم نے بقیہ چوبیس لاکھ میں ایک ۵ مرلہ کی نئی جگہ خرید کر اس کی پہلی منزل تعمیر کی جس میں بقیہ چوبیس لاکھ خرچ ہوگئے جبکہ بہت سارا کام رہتا تھا جوکہ دونوں بھائیوں نے مل کر اپنے ہی پیسوں سے کروایا اور سب کی رضامندی سے رجسٹری والدہ کے نام کروادی۔
دوسری منزل کی تمام تر تعمیرات چھوٹے بھائی نے کروائی۔ اور ۲۰۱۷ میں اس کی شادی ہوگئی۔ ۲۰۲۰ میں والد کا انتقال پر ملال ہوگیا۔ آج کے دن ۵ مرلہ ڈبل سٹوری کی مالیت تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔ اور ابھی تک والد صاحب کی جائیداد کی تقسیم نہیں ہوئی۔ والدہ محترمہ نے زبانی طور پر کہا ہے میں اپنا حصہ نہیں لے رہی اور میں اسی پر رضامند ہوں۔ دونوں بھائی اڑھائی مرلہ اڑھائی مرلہ کی رجسٹری بہنوں اور والدہ کی اجازت سے اپنے نام کرواچکے ہیں۔ تینوں بہنوں کے حصے درکار ہیں مالیت کیسے نکالیں؟
گاؤں میں بھی زمین موجود ہے نہ اس کی مالیت کا پتہ ہے اور نہ رقبہ کا۔ برائے مہربانی ان تمام پوائنٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے شرعی مسئلہ سے ہمیں آگاہ فرمائیں تاکہ ہم دونوں بھائی والد صاحب کی جائیداد تقسیم کرکے بہنوں کاحصہ دے دیں۔
نمبر۱۔مذکورہ پلاٹ صرف قانونی چارہ جوئی کےلئے والدہ کے نام کیاگیایا واقعۃ ان کو دیاگیا؟ نمبر۲۔چھوٹے بھائی نے دوسری منزل کی تعمیر کس نیت سے کی ؟
نمبر۱۔مذکورہ پانچ مرلے کا پلاٹ والدہ ہی کے لئے خریدا گیا اوران کے قبضے میں دے کر رجسٹری ان کےنام کروادی گئی تھی۔ نمبر۲۔ دوسری منزل کی تعمیر چھوٹے بھائی نے والدہ کی اجازت سے اپنی رہائش کے لئے کی۔
صورت مسؤلہ میں مذکورہ پانچ مرلےزمین والدہ (جوکہ ابھی حیات ہیں )کےنام پرخریدکراس میں ایک منزلہ مکان تعمیرکیاگیاجووالدہ ہی کےنام اور ملکیت ہے۔اگر واقعتاً ایساہی ہےتویہ پانچ مرلہ زمین اورپہلی منزل اب بھی شرعاًوالدہ ہی کی ہےاگرچہ رجسٹری دو نوں بیٹوں کےنام ہوکیونکہ اس طرح سےمشترکہ طورپربغیرتقسیم کئےھبۃ کا شرعاًکوئی اعتبارنہیں۔لہٰذااگروالدہ اپنی حیات میں یہ زمین بمع پہلی منزل اپنی اولاد میں سےکسی کودیناچاہیں تومکمل پیمائش اورنشاندہی کےساتھ اس کےقبضےمیں دےدیں۔
نیزاپنی زندگی میں اپنی جائیدادکواولادکےدرمیان برابری کےساتھ کےتقسیم کرنازیادہ افضل ہےجبکہ وراثت کےلحاظ سےتقسیم کرنابھی درست ہےلہٰذا والدہ کو چاہئےکہ اگروہ جائیدادتقسیم کرناچاہیں توبیٹوں کےساتھ ساتھ بیٹیوں کوبھی حصہ دیں۔ واضح رہیکہ صورت مسؤلہ میں اوپروالی منزل چونکہ چھوٹےبھائی نےوالدہ کی اجازت سےاپنےلئے تعمیرکی ہےاس لئےوہ چھوٹےبھائی کی ملکیت ہےلہٰذا وہ صرف اوپر والی منزل کامالک ہے نہ کہ پلاٹ اورزمینی منزل کا۔
:الفتاوى الهندية (4/ 378)دارالفکر
لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية۔
:الفتاوى الهندية (4/ 378)دارالفکر
هبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تجوز، سواء كانت من شريكه أو من غير شريكه، ولو قبضها، هل تفيد الملك ذكر حسام الدين – رحمه الله تعالى – في كتاب الواقعات أن المختار أنه لا تفيد الملك، وذكر في موضع آخر أنه تفيد الملك ملكا فاسدا وبه يفتى، كذا في السراجية۔
:الدر المختار وحاشية ابن عابدين(6/ 747)دارالفکربیروت
وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ۔
:الفتاوى الهندية (4/ 371)دارالفکر
استعار أرضا ليبني ويسكن، وإذا خرج فالبناء لرب الأرض فلرب الأرض أجر مثلها مقدار السكنى والبناء للمستعير، كذا في محيط السرخسي۔