بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معین اللہ” نام رکھنے کا حکم”

سوال

سوال یہ ہے کہ “معین اللہ ” نام رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟اگر جائز نہیں تو کیا اس نام کو بدلنا ضروری ہے؟وضاحت فرما دیں ۔

جواب

معین اللہ کا معنیٰ “اللہ کا مددگار ” اور بندوں کی طرف اللہ کی مدد کرنے کی نسبت قرآن میں مذکور ہے جیسے: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ} [محمد: 7] اور { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ} [الصف: 14] تو ان آیات کی تفسیر کی روشنی میں مددگار کا معنی “اللہ کے دین کا مدد گار ہونا “ہے ،جیسا کہ مفسرین نےوضاحت فرمائی ہے ،لہذا “معین اللہ” کو بھی اس معنی کی تاویل میں کرتے ہوئے کسی شخص کا نام رکھنے کی گنجائش ہے۔
:تفسیر مظھری (6۔336)رشیدیۃ
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ} [محمد: 7] ای تنصروا دینہ ورسولہ۔
: تفسیر مظھری(7/108)
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ} [الصف: 14]  ای انصار دینہ۔
:تفسير الخازن(4/ 288)دار الکتب العلمیۃ
فقال تعالى: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصارَ اللَّهِ كَما قالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوارِيِّينَ مَنْ أَنْصارِي إِلَى اللَّهِ أي مع الله والمعنى انصروا دين الله كما نصر الحواريون دين الله لما قال لهم عيسى من أنصاري إلى الله قالَ الْحَوارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصارُ اللَّهِ۔
:تفسير الخازن لباب التأويل في معاني التنزيل (4/ 141)
قوله عز وجل: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يعني تنصروا دين الله ورسوله وقيل: تنصروا أولياء الله وحزبه يَنْصُرْكُمْ يعني على عدوكم وَيُثَبِّتْ أَقْدامَكُمْ يعني عند القتال وعلى الصراط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس