مسئلہ یہ ہے کہ ایک گھر میں جوائنٹ فیملی ہے اور کچن بھی ایک ہے کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ایک ساتھ ہے۔ گھر میں چچاؤں کی زوجات ان کی بیٹیاں بھی ہیں۔ وہاں پر شرعی پردے کی کوئی صورت نہیں بنتی بتائیں اس بندے کے لیے کیا حکم ہے؟
عورت پر غیر محرم مردوں سے پردو کرنا شرعا ضروری ہے چاہے وہ اسکے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ البتہ اگر جائنٹ فیملی میں پردے کا انتظام بہت مشکل ہو تو چند طریقوں کی رعایت کرتے ہوئے مشترکہ فیملی میں رہنے کی گنجائش ہے۔
نمبر۱۔ نامحرم مرد و عورت بے تکلفی سے ایک دوسرے کے سامنے نہ آئے۔
نمبر۲۔بلا ضرورت گفتگو نہ کریں اور خلوت میں ملاقات نہ کریں۔
نمبر۳۔ مرد حضرات بغیر اطلاع کے گھر میں داخل نہ ہوں۔
نمبر۴۔ کام کاج کے وقت اگر چہرے اور ہاتھوں کو چھپانا مشکل ہو تو بامر مجبوری خواتین اپنے اوپر بڑی چادر اوڑھ کر رکھیں۔
:قال اللہ تعالی
قُل لِّلمُؤمِنِينَ يَغُضُّواْ مِن أَبصَٰرِهِم وَيَحفَظُواْ فُرُوجَهُم ذَٰلِكَ أَزكَىٰ لَهُم إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا يَصنَعُونَ ٣٠ وَقُل لِّلمُؤمِنَٰتِ يَغضُضنَ مِن أَبصَٰرِهِنَّ وَيَحفَظنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنهَا [النور 30،31]۔
:سنن الترمذي (1/220) قدیمی کتب خانہ
عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إياكم والدخول على النساء»، فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو، قال: «الحمو الموت» وفي الباب عن عمر، وجابر، وعمرو بن العاص.: حديث عقبة بن عامر حديث حسن صحيح، وإنما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان»، ” ومعنى قوله: «الحمو»، يقال: هو أخو الزوج، كأنه كره له أن يخلو بها۔
:الدر المختار (9/608و607)رشیدیۃ
وفي الاشباه: الخلوة بالاجنبية حرام، إلا لملازمة مديونة هربت ودخلت خربة أو كانت عجوزا شوهاء أو بحائل، والخلوة بالمحرمة مباحةإلا الاخت رضاعا، والصهرة الشابة.وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة ولا يكلم الاجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها، وإلا لا انتهى۔