میرا ذاتی گھر ہے جس کی قیمت تقریبا 6لاکھ ہے۔ مکان کے 3کمرے کرایہ پر دیے ہوئے ہیں اور ایک کمرہ میں ہم میاں بیوی رہتے ہیں۔تین کمروں کا کرایہ 18500 روپے آتا ہے اور اس کرایہ میں سے مبلغ 3 ہزار کی دوائی آتی ہے۔ کیونکہ میرا 6 ماہ پہلے بائی پاس ہوا تھا۔ باقی پیسوں سے ہم میاں بیوی گزارا کرتے ہیں۔ میرے اوپر 370000 تین لاکھ ستر ہزار کا قرضہ واجب الادا ہے۔ میری کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے اور میں آپریشن کی وجہ سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ لہذا فتوی دے دیں کہ آیا میرے اوپر زکوۃ بنتی ہے یا نہیں۔ یعنی میں زکوۃ وصول کرسکتا ہوں یا نہیں۔
الدر المختار (3/339)رشيديۃ
ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير۔
بدائع الصنائع (2/ 465)دارالكتب العلميۃ
وأما الذي يرجع إلى المؤدى إليه فأنواع: منها أن يكون فقيرا۔
بدائع الصنائع (2/ 471)دارالكتب العلميۃ
أما قوله تعالى: {والغارمين} [التوبة: 60] قيل: الغارم الذي عليه الدين أكثر من المال الذي في يده أو مثله أو أقل منه لكن ما وراءه ليس بنصاب۔