بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گذشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے سونے کی خریدو فروخت کی اب مجھ پر کتنی زکوۃ آئے گی؟

جواب

اگر گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی تو سائل پر گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے سال جب آپ پر زکوٰۃ فرض ہوئی اس وقت جتنا سونا آپ کے پاس موجود تھا اس کا چالیسواں حصہ واجب الاداء ہوگا ۔ دوسرے سال جتنا سونا موجود تھا اس میں سے پہلے سال کی واجب الاداء زکوٰۃ یعنی چالیسواں حصہ نکال کر ما بقی سے چالیسواں حصہ واجب الاداء ہوگا اسی طرح ہر سال کا حساب کرتے وقت پچھلے سال کی واجب الاداء زکوٰۃ منہا کرتے جائیں آخر میں سب کو جمع کرکے زکوٰۃ ادا کر دیں اور ہر سال کے وقت وجوب کی قیمت کے حساب سے بھی زکوٰۃ ادا کرنے کی گنجائش ہے تاہم موجودہ قیمت کے لحاظ سے ادائیگی میں احتیاط زیادہ ہے۔
بدائع الصنائع (2/ 387)م  دارالكتب العلميۃ
وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين ‌يزكي ‌السنة ‌الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة۔
الدر المختار (3/250) رشیدیہ
(‌وجاز ‌دفع ‌القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غين الاعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء۔
امداد الفتاویٰ،کتاب الزکوٰۃ(3/510) نعمانیہ

گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ میں اول پورے مال کی زکوٰۃ واجب ہے اور دوسرے سال اس قدر واجب کے منہا کرنے کے بعد بقیہ کی واجب ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس