واضح رہے کہ اسلام میں شکار کرنا خواہ حلال جانور کا ہو یا حرام جانور کا شرعاً مباح اور درست ہے جبکہ شکاری کی اس سے کوئی غرض مقصود ہو ،مثلا حلال جانور کا گوشت ،کھال یا سینگ حاصل کرنا ہو اور حرام جانور کی اذیت سے بچنا مقصود ہو مثلا بھیڑیے اور خنزیر سے فصلوں کو محفوظ رکھنا ۔ اور اگر شکار سے مقصود محض لہو ولعب اور وقت کا ضیاع ہو تو ایسا شکار کرنا ناجائز ہے ،نیز وہ شکار کھیلنا جس سے فرائض و واجبات ترک ہوتے ہوں ایسا شکار کرنا بھی حرام ہے۔
فتح الباری(14/108) دارالکتب العلمیۃ بیروت
(قوله باب كل لهو باطل) إذا شغله أي شغل اللاهي به عن طاعة الله أي كمن النهي بشيء من الأشياء مطلقا سواء كان مأذونا في فعله أو منهيا عنہ۔
رد المحتار(10/54)رشیدیۃ
قال أبو يوسف: إذا طلب الصيد لهوا ولعبا فلا خير فيه وأكرهه، وإن طلب منه ما يحتاج إليه من بيع أو إدام أو حاجة أخرى فلا بأس به۔
تبیین الحقائق(7/134،135)بیروت
(وحل اصطياد ما يؤكل لحمه وما لا يؤكل) لقوله تعالى {وإذا حللتم فاصطادوا} [المائدة: 2] مطلقا من غير قيد بالمأكول إذ الصيد لا يختص بالمأكول۔۔۔ ولأن اصطياده سبب الانتفاع بجلده أو ريشه أو شعره أو لاستدفاع شره وكل ذلك مشروع والله أعلم۔