میں نے ایک بکری اپنے پڑوسی کو تیس ہزار کی فروخت کی پانچ ہزار اس نے ایڈوانس دیے سودا طے ہوتے وقت،باقی پچیس ہزار کی رقم کے لیے ایک تاریخ مقرر کردی ، طے شدہ تاریخ میں اس نے صرف پندرہ ہزار دیے اور باقی پیسے دینے میں ٹال مٹول کرتا رہا تو میں اس کے گھر گیا اور اس کو اس کے بیس ہزار واپس کر کے اپنی بکری واپس لےآیا اب وہ (پڑوسی ) کہتا ہے کہ میں نے دو مہینے آپ کی بکری کو تیرہ ہزار کا چارہ اور گندم وغیرہ کھلائی ہے ،مجھے تیرہ ہزار واپس دو اور ساتھ یہ بھی کہا آپ نے سودا کرتے وقت کہا تھا کہ بکری گا بھن ہے جب کہ چیک کرا نے پر معلوم ہوا کہ بکری گابھن نہیں اب سوال یہ ہے کہ مجھ پر چارے کے تیرہ ہزار لازم ہوں گے یا نہیں اور رہا مسئلہ گابھن کا تو جس شخص سے میں نے خریدی تھی اس نے مجھے گابھن کہہ کر ہی بکری فروخت کی تو میں نے اس کی بات پہ یقین کرتے ہوئے آگے پڑوسی کو بھی فروخت کر دی حقیقت میں مجھے اس کے گابھن ہونے نہ ہونے کا علم نہیں تھا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ مذکورہ تنازع کا کوئی شرعی حل تجویز فرمائیں۔
قال اللہ تعالیٰ
{وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} [النساء: 128]
أحكام القرآن للجصاص (3/ 270)دار احياء التراث
وجائز أن يكون عموما في جواز الصلح في سائر الأشياء إلا ما خصه الدليل ويدل على جواز الصلح عن إنكار والصلح من المجهول۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (4/ 276) دار اكتب العلمية
(ويلزم بإيجاب وقبول) وقال الشافعي: لا يلزم به بل لهما خيار المجلس لقوله – عليه السلام – «المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا» إذ هما متبايعان بعد البيع وقبله متساومان، ولنا أن العقد تم من الجانبين ودخل المبيع في ملك المشتري والفسخ بعده لا يكون إلا بالتراضي لما فيه من الإضرار بالآخر بإبطال حقه كسائر العقود۔
رد المحتار(4/ 506)دار الفكر
وحكمه ثبوت الملك.۔ (قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن، ووجوب استبراء الجارية على المشتري، وملك الاستمتاع بها، وثبوت الشفعة لو عقارا، وعتق المبیع لو محرما من البائع بحر، وصوابه من المشتري۔