بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ناراض بیوی کا بچوں سمیت میکے جانے کے بعد نفقہ کا حکم

سوال

ایک شخص کی بیوی ناراض ہوکر میکے چلی گئی ہے ۔بہت زیادہ اصرار کےباوجود وہ واپس نہیں آرہی ۔ اس صورت میں بیوی اور بچوں کا نفقہ شوہر پر لازم ہے یا نہیں ؟

جواب

اگرشوہر کی اجازت کےبغیربیوی میکےرہےتووہ شرعاً نان ونفقہ کی مستحق نہیں،جب شوہرکے مکان پرآجائےگی تب مستحق ہو گی۔البتہ نابالغ بچوں کانفقہ والدکےذمےبہرصورت لازم ہے۔
الفتاوی الھندیۃ(1/582)دارالکتب العلمیۃ
نفقۃ الاولادالصغارعلی الاب لایشارکہ فیھااحدکذافی الجوھرۃالنیرۃ۔
الفتاوى الهندية (1/ 568)دارالکتب العلمیۃ
وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه۔
الدر المختار (3/ 575)سعید
(لا) نفقة لأحد عشر: مرتدة، ومقبلة ابنه، ومعتدة موت۔۔۔۔۔۔و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود۔
تبیین الحقائق(3/303)دارالکتب العلمیۃ
قال رحمہ اللہ (لاناشزۃ)ای لاتجب النفقۃللناشزۃوھی الخارجۃمن بیت زوجھابغیراذنہ المانعۃنفسھامنہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس