بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میری طرف سے فارغ ہے فوراً کہا میں کاغذ دینے کے لیے تیار ہوں

سوال

ایک شخص جو کہ بیرون ملک روزگار کے لیے گیا ہوا ہے اسکی بیوی سسرال میں لڑائی جھگڑا کی وجہ سے میکے چلی آئی، شوہر نے بیوی کے گھر والوں کو فون پر کہا کہ یہ میری طرف سے فارغ ہےاور میں اس کو کاغذ دینے کے لیے تیار ہوں۔بیوی کے گھر والوں کو کہا کہ مجھے بتائیں کہ میں منہ سے بول کر طلاق دوں یا فون پر دوں یہ میری طرف سے فارغ ہے۔ آپ کو جب طلاق چاہیے ہو مجھے بتا دیں میں طلا ق دینے کے لیے تیار ہوں۔آپ کہتے ہو تو اس وقت کاغذ بھیج دوں اور اگر آپ ابھی کہتے ہو تو ابھی کاغذ بھیج دیتا ہوں۔مذکورہ پس منظر کا شرعی حکم کیا ہے؟
تنقیح: لڑکے سے لفظ فارغ کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی اس نے کہا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی، بلکہ ٹینشن کی وجہ سے جذباتی فیصلہ کا ارادہ کرلیاتھا۔ اب میں گھر بسانے کے لیے تیار ہوں۔ قرآ ن سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

سوال پر غور کیا گیا ہے اور سوال کے ساتھ شوہر کی طرف سے ارسال کیا گیا آڈیو میسج بھی سنا گیا۔ شوہر نے اپنے میسج میں گو کہ یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ یہ میری طرف سے فارغ ہے، لیکن اس کے فوراً بعد وہ کہہ رہا ہے کہ میں کاغذ دینے کیلیے تیار ہوں۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ میں فون پر طلاق دوں یا منہ سے بول کردوں۔ اس کے بعد بھی وہ اپنے میسج میں کہہ رہا ہے کہ میں اس کو طلاق دوں گا۔ نیز وہ ان الفاظ سے طلاق کی نیت کا انکار بھی کررہا ہے لہذا اس پورے پسِ منظر کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فارغ ہے کہ الفاظ سے طلاق واقع نہیں کررہا بلکہ حالات سے تنگ آکر طلاق دینے کے لیے تیار ہے۔ جیسے کہ میسج کے اگلے حصے میں اس نے اس بات کی وضاحت کی ہے، نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ فارغ کے الفاظ طلاق کے معاملے میں الفاظ کنایہ ہیں، جو طلاق واقع ہونے میں نیت کے محتاج ہیں۔
لہذا صورت مسؤلہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی اور سیاق و سباق سے بھی یہی واضح ہوتا ہے تو شرعا مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، دونوں بدستور میاں بیوی ہیں، اور وہ گھر آباد کرسکتے ہیں۔ البتہ فریقین کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق خوش اسلوبی سےادا کریں۔ اور ایک دوسرے کی حق تلفی سے باز رہیں۔ بالخصوص شوہر پر لازم ہے کہ آئندہ طلاق جیسے معاملے میں جذباتی فیصلے کرنے سے مکمل اجتناب کرے۔
الفتاوى الهندية (1/ 374)دار الفکر
الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام۔
رد المحتار علی الدر المختار(3/296)
(کنایۃ) عند الفقھاء ( مالم یوضع لہ) ای طلاق ( واحتملہ) وغیرہ (ف) الکنایات( لاتطلق بھا) قضاء ( الا بنیۃ او دلالۃ الحال)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس