بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی کا نام لیے بغیر پانچ چھ مرتبہ صرف لفظ طلاق کہنا

سوال

میرے اور میری اہلیہ کی موجودگی میں میرے بیٹے نے اپنی بیوی سے لڑائی کی اس پر میں نے بیٹے کو کافی مارا بھی اور اس مار کی وجہ سے بیٹے نے غصے میں آکر بیوی کا نام لئے بغیر پانچ چھ مرتبہ صرف لفظ طلاق کہا ،جبکہ یہ الفاظ کہتے وقت بیوی کمرے میں تھی سامنے موجود نہیں تھی آیا قرآن و حدیث کی روشنی میں رجوع ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
تنقیح :بیٹے سے تفصیلات پوچھنے پر یہ بات سامنے آئی کہ تین مرتبہ طلاق کا لفظ والدین کے سامنے کہا اور بقیہ تین مرتبہ گھر سے نکلتے وقت بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ :طلاق ،طلاق،طلاق،چلی جا شادی پر تیرا دماغ ٹھیک ہوجائے نیز لڑکے کا کہنا ہے کہ میری نیت طلا ق کی نہیں تھی۔قرآن وسنت کی روشنی میں آیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟ رجوع ہوسکتاہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جو الفاظ طلاق میں صریح ہیں ان میں بغیر نیت کے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔لہذا صورتِ مسئو لہ میں جو وضاحت کی گئی ہے اس کے مطابق تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے،اور اب دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں ،اور ان دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ، نہ شوہر رجوع کر سکتا ہے اور نہ ہی تحلیل شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح ممکن ہے۔تاہم مسماۃ مذکورہ عدتِ طلاق گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
قال اللہ تعالیٰ
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ} [البقرة: 230]
أحكام القرآن للجصاص (2/ 83)دار احیاء التراث
قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في اطھار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
صحيح البخاري (کتاب الطلاق ،باب من قال لامراتہ انت علی حرام)
– وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك۔
صحيح البخاري(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث)
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 240)دار احیاء التراث
وقال أهل العلم: إذا طلق ثلاثا فقد حرمت عليه، فسموه حراما بالطلاق والفراق، وليس هاذا كالذي يحرم الطعام لأنه لا يقال لطعام الحل: حرام، ويقال للمطلقة: حرام. وقال في الطلاق ثلاثا: لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 469)دار الفکر
ومنهم من قال في المدخول بها يقع ثلاثا وفي غيرها واحدة، لما في مسلم وأبي داود والنسائي أن أبا الصهباء كان كثير السؤال لابن عباس قال: أما علمت أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها جعلوها واحدة؟ الحديث. «قال ابن عباس: بل كان الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها جعلوها واحدة على عهد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – وأبي بكر وصدرا من إمارة عمر، فلما رأى الناس قد تتابعوا فيها قال: أجيزوهن عليهم» . هذا لفظ أبي داود. وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس