بعض جگہوں پر وائی فائی کا کنکشن لگا ہوتا ہے اور مالک کوڈ لگانا بھول جاتا ہے، اب جہاں تک اس کے سگنل جاتے ہیں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں جبکہ مالک کو پتہ بھی نہیں ہوتا، اور بل کی ادائیگی وہی مالک کرتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ ایپ کے ذریعے سے وائی فائی کا کوڈ کھول لیتے ہیں اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ مالک بے خبر ہوتا ہے۔ کیا اسطرح انٹر نیٹ کا استعمال جائز ہے؟
مشكاة المصابيح (باب الغصب والعاریۃ)
وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ” «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في ” شعب الإيمان “، والدارقطني في ” المجتبى “۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1974)دار الفکر
(” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه۔
رد المحتار (4/ 61)دار الفکر
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔