بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چہرے کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے میڈیکل شعائیں لگوانا

سوال

اسلام میں چہرے کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے جو آج کل) ایستھیٹک میدیسن پروسیجرز)ہیں کیا وہ جائز ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرد مردانگی اور عورت نسوانیت سے مناسبت رکھنےوالی مباح زینت اختیارکرسکتی ہے البتہ جسم میں کسی شرعی اور فطری ضرورت کے بغیر خود ساختہ تبدیلی درست نہیں ۔ چونکہ ذکر کردہ ذرائع میں عموماً بغیر عذر اور ضرورت کے عام فطرت ِ تخلیق کو تبدیل کرنا مقصود ہوتاہے لہٰذا یہ شرعاً جائز نہیں ۔ تاہم اگر کوئی عیب عام قانون ِ فطرت کےخلاف ہو جیسے کہ ناک وغیرہ کا ٹیڑھا ہونا یا زخم کے نشان وغیرہ کو درست کرنا ،اس طرح کے عمل ازالہ عیب میں داخل ہیں ۔لہٰذا ضرورت کی بناپر اس کی گنجائش ہوگی ۔
تکملۃ فتح الملھم(4/115)دارالعلوم کراتشی
واکثرماتفعلہ النساءفی الحواجب واطراف الوجہ ابتغاءللحسن والزینۃوھوحرام  بنص ھذالحدیث.امااذانبتت للمراۃ لحیۃاوشارب اوعنفقۃفاخذھا حلال عندالحنفیۃوالشافعیۃ…والحاصل ان کل مایفعل فی الجسم من زیادۃ اونقص من اجل الزینۃ بمایجعل الزیادۃاوالنقصان مستمراًمع الجسم،وبمایبدومنہ انہ کان فی اصل الخلقۃھکذا،فانہ تلبیس وتغییرمنھی عنہ،واما ماتزینت بہ المراۃلزوجھامن تحمیرالایدی اوالشفاہ اوالعارضین بمالایلتبس باصل الخلقۃ فانہ لیس داخلاًفی النھی عندجمھورالعلماء.واماقطع الاصبع الزائدۃونحوھافانہ لیس تغییراًلخلق اللہ وانہ من قبیل ازالۃ عیب اومرض فاجازہ اکثرالعلماءخلافالبعضھم۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2682) رشیدیۃ
وتحرم أيضاً عمليات التجميل النسائية التي يراد بها تصغير المرأة الكبيرة (عمليات الشد) روى أحمد عن عائشة قالت: «كان النبي صلّى الله عليه وسلم يلعن القاشرة والمقشورة، والواشمة والموشومة، والواصلة والموصولة» وروى أحمد أيضاً عن ابن مسعود قال: «سمعت رسول الله صلّى الله عليه وسلم ينهى عن النامصة والواشرة والواصلة والواشمة إلا من داء».والواشرة: التي تَشِر الأسنان حتى تكون لها أشْر، أي تحديد ورقّة، تفعله المرأة الكبير، تتشبه بالحديثة السن والقاشرة: التي تعالج وجهها أو وجه غيرها بالغُمرة (طلاء يتخذ من الوَرْس) ليصفو لونها، والمقشورة: التي يفعل بها ذلك، كأنها تَقْشِر أعلى الجلد، ويبدو ما تحته من البشرة، وهو شبيه بفعل النامصة والوشم والنمص والتفليج حرام على الرجال والنساء، الفاعل والمفعول به، لورود اللعن عليه، مما يدل على تحريمه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس