بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر کا بالغ ہوتے ہی فوراً طلاق ثلاثہ دینا

سوال

ایک آدمی کا بچپن میں نکاح ہوا تھا، بالغ ہوتے ہی اس نے اس کو تین طلاقیں دیں تو آیا اب اس لڑکی کے ساتھ اس آدمی کا نکاح ہوسکتا ہے؟
تنقیح: (1) لڑکی کی رخصتی ہوئی یانہیں؟ (2)شوہرنے تین طلاقیں کن الفاظ کے ساتھ دیں؟
جواب ِ تنقیح:(1)رخصتی نہیں ہوئی۔ (2)یوں الفاظ کہے تھے” میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں”۔

جواب

مذکورہ صورت میں بالغ ہونے کے بعد شوہر کےتحریرا تین طلاقیں دینے سے عورت پر تیں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور ان کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہو کر نکاح بلکلیہ ختم ہو گیا ہے،دونوں ایک دوسرے پر حرام ہیں نا تو وہ آپس میں رجوع کر سکتے ہیں اور نا ہی نیا نکاح کر سکتے ہیں۔
قال الله سبحانہ وتعالی 
‌فَإِن ‌طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَهُۥۗ [البقرة: 230] ۔
صحيح البخاري(5/ 2016):بيروت
وقال ‌الليث، ‌عن ‌نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك۔
فتاوى الهندية (1/ 414) دارالكتب علمية
الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) ‌الكتابة ‌على ‌نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ۔۔۔۔۔۔ وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔
رد المحتار(4/ 442)رشيدية
(قوله كتب الطلاق إلخ) ‌قال ‌في ‌الهندية: ‌الكتابة ‌على ‌نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ۔۔۔۔۔۔۔ وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس