بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مصالح مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کو فروخت کرنا

سوال

گوجرانوالہ سے ملحق علاقہ راہوالی کینٹ میں واقع مسجد انبالوی جو تقسیم ہندوستان کے بعد اس علاقہ میں ضلع انبالہ سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں نے تعمیر کی ، ان مہاجرین کے آباء واجداد میں سے ایک صالح شخص نے تقسیم سے پہلے ہندوستان میں واقع مسجد کے مصالح کیلئے تقریباً سوا دو ایکڑ جگہ وقف کی تھی، یہ موقوفہ زمین لگ بھگ سو سال سے مصالح مسجد کیلئے استعمال ہوتی رہی اور تقسیم کے بعد کلیم کے ذریعے علاقہ مذکورہ بالا میں مسجد کے لیے سوا دوایکڑ زمین حاصل کی گئی جو حسب منشاء واقف مصالح مسجد میں استعمال ہوتی رہی، تاہم وہ جگہ مسجد سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ مسجد انتظامیہ کے سرکردہ لوگ دنیا سے چلے گئے ہیں۔ اب موجودہ صورتحال میں شدید خطرہ ہے کہ مذکورہ جگہ پر با اثر لوگ بزور بازو قبضہ جماسکتے ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو مسجد کی مذکورہ انتظامیہ میں ان سے مقابلہ کی سکت نہیں۔ اس تشویش ناک صورتحال میں مسجد انتظامیہ چاہتی ہے کہ مسجد کی اس جگہ کو بیچ کر اس کی قیمت سے مسجد کے متصل مکان خرید کر مسجد میں شامل کردیا جائے اور بقیہ رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کردی جائے۔
کیا مذکورہ بالا صورتحال میں مسجد انتظامیہ مسجد کی مملوکہ زمین کو بیچ کر مسجد میں شامل کرنے کی مجاز ہے یا نہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال اگر درست ہے تو اس کیفیت میں مصالحِ مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کو فروخت کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اس سے حاصل شدہ رقم کو بہت ہی احتیاط کے ساتھ صرف اسی مسجد کے لیے جگہ خریدنے اور تعمیر وغیرہ کے لیے استعمال کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس جگہ کو فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم کسی اور رفاہی کام مثلاً ہسپتال وغیرہ کے لیے استعمال کرنا ہر گز جائز نہیں۔
البحر الرائق (5/ 224)دار الکتب الاسلامی
‌وفي ‌الخانية ‌المتولي إذا اشترى من غلة المسجد حانوتا أو دارا أو مستغلا آخر جاز لأن هذا من مصالح المسجد فإن أراد المتولي أن يبيع ما اشترى أو باع اختلفوا فيه قال بعضهم لا يجوز هذا البيع لأن هذا صار من أوقاف المسجد وقال بعضهم يجوز هذا البيع وهو الصحيح لأن المشتري لم يذكر شيئا من شرائط الوقف فلا يكون ما اشترى من جملة أوقاف المسجد۔
رد المحتار (4/ 388)سعید
مطلب لا يستبدل العامر ‌إلا ‌في ‌أربع(قوله: ‌إلا ‌في ‌أربع) الأولى: لو شرطه الواقف. الثانية: إذا غصبه غاصب، وأجرى عليه الماء حتى صار بحرا فيضمن القيمة، ويشتري المتولي بها أرضا بدلا: الثالثة: أن يجحده الغاصب ولا بينة أي وأراد دفع القيمة، فللمتولي أخذها ليشتري به بدلا.الرابعة: أن يرغب إنسان فيه ببدل أكثر غلة، وأحسن صقعا فيجوز على قول أبي يوسف وعليه الفتوى كما في فتاوى قارئ الهداية۔
البحر الرائق (5/ 223)دار الکتب الاسلامی
وقد روي عن محمد ‌إذا ‌ضعفت ‌الأرض ‌الموقوفة عن الاستغلال والقيم يجد بثمنها أخرى هي أكثر ريعا كان له أن يبيعها ويشتري بثمنها ما هو أكثر ريعا وفي الفتاوى قيم وقف خاف من السلطان أو من وارث يغلب على أرض وقف يبيعها ويتصدق بثمنها وكذا كل قيم إذا خاف شيئا من ذلك له أن يبيع ويتصدق بثمنها۔
دیکھئے فتاوی محمودیہ (۴/۴۶۱) فاروقیہ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس