بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دماغی توازن کھو دینے والے شخص کی طلاق کا حکم

سوال

ایک شخص کا ایکسیڈنٹ ہوا قومے میں کافی عرصہ رہا دماغی طور پر کبھی کبھی دورہ پڑتا ہے تو اس کو کوئی پتہ نہیں چلتا، اپنی والدہ، والد کو گالیاں دیتا ہے بیوی کو طلاق بھی دے ڈالتا ہے، دیوار پر چڑھ جاتا ہے، آدھی رات کو کہتا ہے میں نے نہانا ہے، مٹھائی کھانی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن جب دورہ ختم ہوتا ہے تو ماں سے بڑی محبت کرتا ہے بیوی سے محبت کرتا ہے بچوں سے محبت کرتاہے تو اس دورے کی حالت میں اس کے طلاق دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

ذکر کردہ صورت میں اگر واقعتاً شخص مذکور اپنا دماغی توازن بیماری کی وجہ سے کھو دیتا ہے، اور اس کو اپنے افعال اور اقوال کا بلکلیہ علم نہیں ہوتا، نیز اس سے بلا اختیار اقوال وافعال صادر ہوتے ہیں، ایسی حالت میں اس کی دی ہوئی طلاق کا بھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔ لہذا ایسی حالت میں اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ جب اس نے طلاق دی اس وقت اگر اس کی ذہنی کیفیت صحیح تھی تو اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔
الدر المختار (4/436)
(‌لا ‌يقع ‌طلاق المولى على امرأة عبده) لحديث ابن ماجه الطلاق لمن أخذ بالساق إلا إذا قال زوجتها منك على أن أمرها بيدي أطلقها كما شئت فقال العبد قبلت، وكذا إذا قال العبد: إذا تزوجتها فأمرها بيدك أبدا كان كذلك.خانية (والمجنون) إلا إذا علق عاقلا ثم جن فوجد الشرط، أو كان عنينا أو مجبوبا أو أسلمت وهو كافر وأبى أبواه الاسلام وقع الطلاق.أشباه (والصبي) ولو مراهقا أو أجازه بعد البلوغ، أما لو قال أوقعته وقع لانه ابتداء إيقاع، وجوزه الامام أحمد (والمعتوه) من العته، وهو اختلال في العقل۔
رد المحتار (3/439)
والثاني ‌أن ‌يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله۔
الفتاوى الهندية (1/ 387)بیروت
‌۔ولا ‌يقع ‌طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة
الفتح القدیر (3/468)  رشیدیۃ
(فصل)(قولہ ولا یقع طلاق الصبی) وان کان یعقل( والمجنون ولنائم) والمعتوہ کالمجنون، قبل ہو القلیل الفہم المختلط الکلام الفاسد التدبیر لکن لا یضرب ولا یشتم، بخلاف المجنون. وقیل العاقل من یستقیم کلامہ وافعالہ الا نادر او المجنون ضدہ، والمعتوہ من یکون ذلک منہ علی السواء، وھذا یؤدی الی ان لا یحکم بالعتہ علی احد، والاول اولی۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس