میری بیوی میری اجازت سے اپنے والدین سے ملنے دس(10) دن کےلئے گئی ۔دس دن کے بعد جب میں نے اسے فون پر بولا کہ اپنے گھر واپس آجاؤ تو اس نے آنے سے انکار کردیا۔ کوئی خاص وجہ بھی نہیں تھی ۔ جس پرمیں نے کہاکہ میری طرف سے آپ فارغ ہو اوریہ بات فون پر وقفے وقفے سے تین مرتبہ دہرائی گئی بحالت غصہ میں اورکسی قسم کا کوئی نیت یا ارادہ نہ تھا کہ چھوڑدوں گا۔ تین بچے ساتھ ہیں۔ لہذا اس مسئلے کے بارے میں میری راہنمائی فرمائی جائے۔
صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے غصے کی حالت میں تین دفعہ اپنی بیوی کو یہ کہا کہ ’’ میری طرف سےآپ فارغ ہو‘‘ تو آپ کی بیوی پر شرعا ًایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے ،اور اس سے آپ دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،لہذا اس کے بعد اگر آپ دونوں( میاں بیوی) ساتھ رہنا چاہیں تو عدت میں یا عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کےلئےایجاب و قبول کرنا ضروری ہوگا اور نکاح کے بعد آئندہ کے لیے آپ کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا ، بشرطیہ کہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو۔
الفتاوى الهندية (1/ 374) دار الفكر
(الفصل الخامس في الكنايات) لايقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام: (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي، اعزبي، قومي، تقنعي، استتري، تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية، برية، بتة، بتلة، بائن، حرام، والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب، ففي حالة الرضا لايقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لايجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله: اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لايصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف – رحمه الله تعالى – بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك، لا ملك لي عليك، خليت سبيلك، فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي، قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك، وفي الينابيع ألحق أبو يوسف – رحمه الله تعالى – بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي.”۔
رد المحتار (3/ 308)سعيد
(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح۔