بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شہوت کے ساتھ اپنی بیٹی کے جسم کو ہاتھ لگانا

سوال

مفتی صاحب ایک مسئلہ درپیش آیا ہے، کہ میں نے لاعلمی کی وجہ سے اپنی بیٹی کو شہوت کی نگاہ سے اس کے جسم کو ہاتھ لگادیا، اس کے بعد میں علماء کرام سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کا حل توبہ ہے اور ایک مفتی صاحب سے اس کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس سے حرمت ثابت ہوگئی یعنی میری بیوی میرے پر حرام ہوگئی ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اپنی بیوی کو طلاق دی یعنی تین دفعہ بولا کہ طلاق طلاق طلاق ہے، پھر کچھ عرصہ بعد میں نے یوٹیوب سے مفتی اکمل صاحب کا بیان سنا، اس میں انہوں نے بتایا کہ اس مسئلہ کوکسی قابل مفتی کو بتایا جائے تو میری آپ سے درخواست ہے کہ میری اولاد جوان ہے ان کی شادی کی عمر ہے اور اس عمر میں میں اپنی بیوی کو بھی چھوڑ نہیں سکتا، برائے مہربانی اگر اس مسئلہ کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو بتا دیجئے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتہً آپ نے شہوت کے ساتھ اپنی بیٹی کے جسم کو ہاتھ لگایا اور درمیان میں کوئی ایسا حائل بھی نہیں تھا جو بیٹی کے بدن کی حرارت محسوس کرنے سے مانع ہو تو ایسی صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی جس کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی ہے، لہذا اب دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں اور طلاق کے وقت سے بیوی عدت گزار کر کہیں اور شادی کرسکتی ہے۔
البناية شرح الهداية (م: 855هـ)(5/ 37)دارالكتب العلمية
وعن ابن عمر _ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ – _ أنه قال: إذا جامع الرجل المرأة أو قبلها أو لمسهابشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة حرمت على أبيه وابنه وحرمت عليه أمها وابنتها، انتهى. … وفي ” طلاق المنتقى ” للحسن بن زياد عن أبي يوسف: إذا لمس شهوة من جسد أم امرأته من فوق الثياب عن شهوة وهو يجد من جسدها حرارة حرمت عليه امرأته۔
رد المحتار (3/ 28)سعيد
فصل في المحرمات … وكذا المقبلات أو الملموسات بشهوة لأصوله أو فروعه أو من قبل أو لمس أصولهن أو فروعهن۔
الدر المختار (3/ 37)سعيد
وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس