بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں ، کا حکم

سوال

گذشتہ چند سالوں میں ہمارے ازدواجی تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مجھ پر کچھ ناجائز پابندیاں لگا دیں، مثلاً اگر تم اپنے والد سے بات کرو گی تو تمہیں تین طلاق، اگر بھائی سے بات کرو گی تو تین طلاق، اگر بہن سے بات کرو گی تو تین طلاق، اور علٰی ہذا القیاس میرے دیگر رشتہ داروں کے نام لے لے کر ایسا ہی کہا۔ میں بڑی محتاط ہوگئی اور فون پر بھی بات کرنا بند کردیا۔
بعد میں میں نے سب سے بات کی جن سےبات کرنے سے مجھے منع کیا گیا تھا۔ ان حالات میں ہمارے تعلقات بگڑتے چلے گئے۔ ایک دن وہ گھر آیا تو اس نے مجھے کہا کہ میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں۔ اس پر میں خود بڑی پریشان ہوگئی۔ میں نے بہت سے عقلمند اور پڑھے لکھے لوگوں سے مشورہ کیا سب نے ہی مشورہ دیا کہ اب علیحدگی ہی بہتر ہے۔ اب میرے میاں غیر مقلدین سے مشورے کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ طلاق غیرمؤثر ہے۔ ہم اہل سنت والجماعت ہیں اور دیوبند مسلک سے تعلق ہے ۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ قراٰن سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مذکورہ صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔ لہٰذا آپ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں۔ اس صورت میں نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ صورتِ حال میں نیا نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ البتہ اگر آپ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیں اور ہمبستری بھی ہوجائے پھر دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دے دے تو عدت گزرنے کے بعد پہلے شوہر کے ساتھ نئے مہر کے عوض نیا نکاح کرنا جائز ہے۔ واضح رہے کہ حلالہ کی شرط پر دوسری جگہ شادی کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔ نیز تین طلاقوں کو ایک سمجھنا بھی صریح گمراہی ہے۔
     أحكام القرآن للجصاص  (2/83)
قوله تعالى: {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} ‌فحكم ‌بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار، فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
صحيح البخاري (رقم الحدیث: 5264)
وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا ‌حرمت ‌حتى تنكح زوجا غيرك ۔
الفتاوى الهندية( 1/420) رشیدیۃ
۔وإذا ‌أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔
الفتاوی الولوالجیۃ ( 2/100) بیروت
ولا تحل المراۃ بعد ماوقع علیھا ثلاث تطلیقات حتی تنکح زوجا غیرہ و یدخل بھا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس