بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ملٹی لیول کمپنی کے کاروبار کا حکم

سوال

کیا فرماتے علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ہم (اومیگا پرو) کمپنی کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس نے ہم پر درج ذیل شرائط عائد کی ہیں۔
نمبر۱۔ کمپنی پہلے آپ سے ۱۶ ماہ کا معاہدہ مانگتی ہےکہ آپ مقررہ تاریخ تک ہمارے ساتھ کام کریں گے، جب معاہدہ ختم ہوجائے گا آپ کو اپنی پوری سرمایہ کاری کی رقم کا فائدہ ملے گا۔
اگر آپ مقررہ تاریخ سے پہلے پیسے مانگتے ہیں اور معاہدہ منسوخ کرتے ہیں، تو ہم آ پ کے کل سرمایہ میں سے ۳۰فیصد کٹوتی کریں گے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا پیسہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، تاجروں کے ہاتھ میں ہے، اس لیے ہمیں پہلے ان کو حاصل کرنے اور پھر وقت سے پہلے منسوخ کرنے پر خرچ کرنا ہوگا۔ جس دن ہمارا کوئی تعارف کرائے اس وقت ہم مدعو کرنے والے کو ۲فیصد سے ۵ فیصد اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں اور ہمیں امید تھی کہ آپ وعدہ پورا کریں گے لیکن آپ نے نہیں کیا، اس لیے اب آپ کے سرمائے سے ہم ۳۰فیصد کاٹ لیتے ہیں۔ہمارے اسی اخراجات کی تلافی کےلیے۔
نمبر۲۔ہم آپ کو روزانہ کا معلوم فائدہ نہیں دیتے لیکن کبھی کبھی ۴۵ فیصد ، ۴۶ فیصد اور کبھی ۴۹ فیصد منافع میں اضافہ اور کمی کر کے دیتے ہیں۔ لیکن ۴۵ فیصد سے منافع عموماً کم نہیں ہوتا، کیونکہ ہمارے پاس اس کاروبار میں بیس سال کا اچھا کاروباری تجربہ ہے۔
نوٹ: کمپنی ہمیں ہر روز مطلع کرتی ہے کہ آج فلاں سکّوں کا تبادلہ ہوا اور آج اتنے سارے لین دین ہوئے۔
نوٹ: ہر دن کے منافع کی تجارت دوسرے دن کے منافع اور اصل سرمایہ کاری پر کی جاتی ہے۔
نوٹ: کمپنی عام طور پر ہفتے میں پانچ دن کا م کرتی ہے ، اس لیئے دو دن کی چھٹی کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا۔
نوٹ:جب ہماری رقم کمپنی تک پہنچتی ہے تو ایک ہفتے بعد تاجروں کے ہاتھ میں آتی ہے اور استعمال ہوجاتی ہے۔ جوپھر ۷ دن کے بعد روزانہ کی بنیاد پر اکاونٹ دکھاتا ہے۔
نمبر۳۔ ہم آپ کو ٹریڈنگ کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہیں، ہماری ٹریڈنگ فاریکس مارکیٹ میں ڈیجیٹل کرنسی میں ہوتی ہے، اس لیے آپ کو روزانہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کس ملک کی کرنسی کمائی اور کس کرنسی کو کھویا۔
نمبر۴۔ اگر آپ کسی ممبر کو ہمارے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں تو ہم آپ کو ۱۰ فیصد فائدہ دیں گے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کا مدعو کسی اور کو کمپنی میں مدعو کرتا ہے اور وہ اس میں شامل ہوتا ہے، تو آپ کادائیں اور بائیں کا توازن برابر ہے تو ہم آپ کو ۱۰ فیصد دیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کے گروپ میں شامل ہوا ہے۔ نوٹ: یہ ہمیں ذکر کردہ شرائط کے علاوہ فنانسنگ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے۔

جواب

ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام پر جو کمپنیاں چل رہی ہیں ان میں عموما شرعی اعتبار سے مختلف مفاسد اور خرابیاں پائی جاتی ہیں مثلا جھوٹ، دھوکہ دہی اور غیر متعلقہ شرطیں ۔نیز ان میں سامان کی خرید و فروخت بنیادی مقصد نہیں ہوتا، بلکہ فرضی اور غیر واقعی فوائد بتا کر ان میں مبالغہ آرائی کر کے یا اہمیت دلانے کے نام پر مختلف جھوٹ بول کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ممبر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور دراصل اس کے ذریعے اپنا کمیشن بنانے کا ٹارگٹ اور منصوبہ ہوتا ہے اور بعض کمپنیاں آئندہ کی موہوم آمدنی کا سبز باغ دکھا کر کم قیمت کا سامان زیادہ قیمت میں فروخت کرتی ہیں۔ نیز کمپنی کے اصول کے مطابق ممبر کو اس کے درجے کے مطابق ان ممبران کی خریداری پر بھی معاوضہ دیا جاتا ہے جن کی ممبر سازی میں ان کی کوئی محنت نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس کے نیچے کے ممبرز میں سے کسی کے بنائے ہوئے ممبرز ہوتے ہیں اس لیے مجموعی طور پر ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام پر چلنے والی کسی بھی کمپنی کا ممبر بن کر ممبر سازی کا کام کرنا اور مختلف راستوں سے معاوضے کے نام سے مالی فوائد حاصل کرنا شرعا جائز نہیں ہے لہذا سوال میں ذکر کردہ انویسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کر کے پیسے کمانے سے اجتناب لازم ہے۔
أحكام القرآن للجصاص(2/244)قدیمی
قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قال أبو بكر قد انتظم هذا العموم النهى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النهي عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نهي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله وأكل مال الغير بالباطل قد قيل فيه وجهان أحدهما ما قال السدي وهو أن يأكل بالربا ‌والقمار والبخس والظلم۔
صحیح البخاری(۱/287) مکتبۃ الشیخ کراچی
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : الخدیعۃ فی النار، من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد۔
                        صحیح البخاری(7/283) محمودیۃ
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: البیعان بالخیار مالم یتفرقا، او قال : حتی یتفرقا، فان صدقا وبیا بورک لھما فی بیعھا ، وان کتما و کذبا محقت برکۃ بیعھا۔
البحر الرائق( 7/507) رشیدیۃ
( قولہ ہی بیع منفعۃ معلومۃ باجر معلوم) یعنی الاجارۃ شرعا تملیک منفعۃ بعوض۔۔۔ اوحرز بقولہ باجر معلوم عما اذا کان مجھولا۔
الفتاوی الھندیۃ(2/302) دارالفکر
وان یکون الربح معلوم القدر، فان کان مجھولا تفسد الشرکۃ وان یکون الربح جزءا شائعا فی الجملۃ لامعینا فان عینا عشرۃ او مائۃ او نحو ذلک کانت الشرکۃ فاسدۃ، کذا فی البدائع۔
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع(۶/62) درالکتب العلمیۃ
والوضیعۃ علی قدر المالین متساویاومتفاضلا، لان الوضیعۃ اسم لجز، ہالک من المال فیتقد بقدر المال۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس