ایک شخص نے 2 سال قبل بیوی کو اکٹھی 3 طلاق دیدیں۔ دو مہینے کے بعد میاں نے آکر کہا کہ ابھی صرف 2 ماہ ہوئے ہیں اور صلح کی گنجائش ہے۔ اسنے لڑکی کے ورثاء کے ذہن میں بھی یہ بات ڈال دی۔ لڑکی کے ورثاء لا علم لوگ تھے چنانچہ انہوں نے لڑکی کو دوبارہ اسکے ساتھ بھیج دیا۔
جامعہ اشرفیہ سے فتوی لیجا کردکھایا گیا کہ اب اس لڑکی کا اسکے ساتھ رہنا حرام ہےلیکن پھر بھی اسنے لڑکی کو واپس نہیں کیا۔ اس بات کو ایک سال ہوگیا ہے اور اب اس دوران ایک بچہ بھی ہوچکا ہے بلکہ دوسرا حمل بھی تیار ہے۔ کیا پہلا بچہ جائز ہے؟
نمبر۱۔کیا پہلا بچہ جائز ہے؟
نمبر۲۔کیا اب اس بچہ کے بعد تعلق ختم ہوگیا؟
نمبر۳۔کیا لڑکی کا اسکے ساتھ رہنا جائز ہے؟
نمبر۴۔اگر تعلق کے بعد بچے کی پیدائش اور خاوند کے گھر رہنا ناجائز ہےتو گناہ کس کو ہوا؟
نمبر۵۔اگر طلاق کے بعد خاوند اسی بیوی کیساتھ مباشرت کرے تو مقدمہ ہوسکتا ہے؟
نمبر۶۔اگر دو بچے ہونے کے بعد علیحدگی ہوسکتی ہے یا اگر بچونکی وجہ سے میاں بیوی الگ ہوناچاہیں تو کیا انکا اسطرح اکٹھے رہنا اور ہمبستری کرنا جائز ہے۔ مہربانی فرماکر قراٰن حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
بشرط صحت سوال اگر شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے پر حرام ہوچکےہیں ۔
بشرط صحت سوال اگر شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے پر حرام ہوچکےہیں ۔
نمبر۱۔اگر حمل طلاق سے پہلے کا ہوتو بچہ جائز ہے اور شوہر سے ہی اس کا نسب ثابت ہوگا ۔
نمبر۲۔اس طرح طلاق ختم نہیں ہوتی ۔
نمبر۳۔اب ان کےلئے ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ۔
نمبر۴۔مردو عورت دونوں گناہ گار ہیں اور اس عمل میں معاونت کرنے والے بھی ۔
نمبر۵۔ورثاء اقرباء اور انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ کوئی بھی جائز قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ان دونوں میں جدائی کروائیں۔
نمبر۶۔ایسی صورت میں ان دونوں کےلیے کسی طور پر بھی اکٹھے رہنا اور ہمبستری جائز نہیں ۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 6927)رشیدیۃ
قول الجمهور منهم أئمة المذاهب الأربعة والظاهرية: يقع به ثلاث طلقات، وهو منقول عن أكثر الصحابة ومنهم الخلفاء الراشدون غير أبي بكر، والعبادلة الأربعة (ابن عمر، وابن عمرو، وابن عباس، وابن مسعود) وأبو هريرة وغيرهم، ومنقول عن أكثر التابعين، لكن لا يسن أن يطلق الرجل أكثر من واحدة عند الحنفية والمالكية كما تقدم؛ لأن طلاق السنة: هو أن يطلقها واحدة ثم يتركها حتى تنقضي عدتها۔
الفتاوى الهندية (1/ 506)بیروت
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔
مرقاة المفاتيح (9/262)امدادیة
قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك۔
احکام القرآن للتھانوی (6/ 98) ادارہ اشرف التحقیق ۔لاہو ر
یامر تعالیٰ عبادہ المؤمنین بالمعاونۃ علی فعل الخیرات وہو البر ،وترک المنکرات وہو التقویٰ، وبینہما عن التناصر علی الباطل والتعاون علی الماثم والمحارم۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 7208)رشیدیۃ
ويثبت نسب ولد المبتوتة بلا دعوى، ما لم تقر بانقضاء العدة إذا جاءت به لأقل من سنتين؛ لأنه يحتمل أن يكون الولد قائماً وقت الطلاق، والحمل عندهم لا يبقى أكثر من سنتين. فإن جاءت به لتمام سنتين من يوم الفرقة، لم يثبت نسبه من الزوج؛ لأنه حادث بعد الطلاق، فلا يكون منه؛ لأن وطأها حرام، إلا أن يدعيه الزوج؛ لأنه التزمه، وله وجه بأن وطئها بشبهة في العدة۔