بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زوجہ ، تین بیٹے ، ایک بیٹی کے درمیان تقسیم میراث

سوال

ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں والد صاحب فوت ہوچکے ہیں۔ ہم میں سے کون اس چیز کا ذمہ دار ہے کہ والد صاحب کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو تقسیم کرے۔ میں بڑا ہوں کیا یہ کام مجھے کرنا ہے یا والدہ کو یا چھوٹے بھائی کو؟ والد صاحب کی زندگی میں ہی ایک گھر چھوٹے بھائی نے اپنے نام کروالیا تھا ۔ کیا ہمیں اس گھر میں سے حصہ ملے گا؟ مفتی صاحب آپ اس سند کا حل قراٰن و سنت کی روشنی میں دیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے تمام ورثاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مرحوم کی وراثت شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرنے کا اہتمام کرے لہذا صورت مسئولہ میں سب سے پہلے تجہز وتکفین کے اخراجات ،واجب الادا قرضوں اور جائز وصیت کو پورا کیا جائے پھر جو کچھ بچا ہے اس کو آٹھ(8)حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ والدہ کو اور ایک حصہ بہن کو جبکہ دو،دو حصے ہر بھائی کو دیے جائیں۔ تقسیم میراث کا نقشہ یہ ہے

            مسئلہ:8    

بیوہ بیٹے3 بیٹی
ثمن عصبہ
1 7
فی کس2حصے ایک حصہ

اگر مذکورہ گھر(جو آپ کے بھائی نے اپنے نام کروایا ہے)آپ کے والد نے بقائم حوش و حواس حالت صحت میں اپنے تصرف سے مکمل طور پر فارغ کرکے اس بھائی کو دے دیا تھا اور آپ کے بھائی نے اس پر قبضہ بھی کر لیا تھاتب تو یہ گھر اس کی ملکیت ہے لیکن اگر مذکورہ بالا شرائط نہیں پائی جا رہی تھی اوراس نے صرف رجسٹری اپنے نام کروالی تھی تو پھر وہ گھر بھی والد مرحوم کی میراث میں شامل ہوگا۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ جو شخص کسی کا حق ناجائز طریقے سے دباتا ہے تو قرآن وسنت میں اس کے لیے سخت وعیدیں آئیں ہیں  ۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے  کہ جس شخص نے کسی کی ایک بالشت برابر زمین ظلما قبضہ کی تو اس کو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری) ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے کسی وارث کی میراث کو ہڑپ کرلیا تو قیامت کے دن  اللہ تعالی اسکی جنت والی میراث کو ختم کر دے گے۔(مشکاۃ)

قال اللہ تعالی
یاایھا الذین امنوی لا تاکلوا اموالکم بالباطل.(المائدہ:29)
صحیح البخاری(1/332) قدیمی
من ظلم قید شبر من الارض طوقہ من سبع ارضین۔ مشکاۃ المصابیح،کتاب الفرائض،باب الوصایا، الفصل الثالث
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺمن قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ۔
الفتاوی الھندیۃ(7/319،357)رشیدیة (طبعة جديدة)
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض…وإذا وهب لابنه وكتب به على شريكه فما لم يقبض لا يملكه… ولو دفع إلى ابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة على التمليك۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس