بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اکاؤنٹ میں مخلوط رقم سے تنخواہ دینا

سوال

ایک سرکاری فرم کو سرکار سے سالانہ بچٹ ملتا ہے جسے وہ بینک میں رکھوا دیتے ہیں، جس پر بینک میں سود جمع ہوجاتا ہے۔ سرکاری بجٹ بعض دفعہ دو تین ماہ لیٹ ملتا ہے ، وہ ادارہ وقتی طور پر جمع شدہ سود سے تنخواہ دے دیتا ہے ، بعد میں جب حکومتی بجٹ ملتا ہے تو وہ رقم جمع کروادی جاتی ہے۔
نمبر۱۔ کیا اس سود سے تنخواہ لینا جائز ہے؟
نمبر۲۔ ایک ساتھی اس فرم کے فائنانس کو دیکھ رہے ہیں انہیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ اصل رقم ختم ہوچکی ہے یہ جمع شدہ سود ہی ہے، کیا وہ اس رقم سے تنخواہ لے سکتا ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اصل رقم اور سود اگر ایک ہی اکاؤنٹ میں مخلوط ہوں اور سود کی رقم مغلوب ہو تو اس مخلوط رقم سے تنخواہ لینے کی گنجائش ہوگی تاہم ادارہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے بجت کی رقم سودی بینک میں نہ لگائے بلکہ اس رقم کو کسی اسلامی بینک کی اسکیم میں لگائے۔
بدائع الصنائع (5/ 233)بیروت
فالدراهم، والدنانير على أصل أصحابنا أثمان لا تتعين في عقود ‌المعاوضات في حق الاستحقاق، وإن عينت حتى لو قال: بعت منك هذا الثوب بهذه الدراهم، أو بهذه الدنانير كان للمشتري أن يمسك المشار إليه، ويرد مثله ولكنها تتعين في حق ضمان الجنس، والنوع والصفة، والقدر۔
المبسوط (۴/)رشیدیۃ
«والنقود لا تتعين في ‌عقود ‌المعاوضات بالتعيين عندنا»
فقہ البیوع (۲/۱۰۲۱) معارف القرآن
وأن علم الأخذان الحلال والحرام متمیزان عندہ ولکن لم یعلم انمایأ خذہ من الحلال أو من الحرام فالعبرۃ عند الحنفیۃ للغلبۃ .  فان کان الغالب فی مال المعطی الحرام لم یجزلہ، وإن کان الغالب فی مالہ الحلال وسع لہ ذلک۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس