بینک میں بیمہ کےنام پر جو ماہانہ 8 ہزار قسط جمع کرواتے ہیں اور دس سال بعد یا بیس سال بعدہمیں پیسے ملیں گے،ان کا گاڑیوں کا کاروبار ہوتاہے اورہمارے ہی پیسوں سے لوگوں کو گاڑی خرید کر دیتے ہیں ان سے جو منافع ملتاہے اس سے ہمیں پیسے دیں گے۔ آیا بیمہ پالیسی کروانا جائز ہے یا نہیں اوران کا یہ کہنا کہ ہم گاڑیوں سے جو منافع ملتاہے وہ لوگوں کو دیتے ہیں ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے اور بیمہ پالیسی کا کیا حکم ہے؟
جامع الترمزی(1/233)عشرہۃمبشرۃ
عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر، وبيع الحصاة۔
بحوث فی قضایا فقھیۃمعاصرۃ(2/187)دار العلوم
قد اتفق معظم العلماء المعاصرین والمجامع والندوات الفقھیۃ علی حرمۃ التامین التجاری التقلیدی ،لما یشتمل علیہ من الغرر والقمار والربا۔
حاشیۃ فقہ البیوع(2/1034)معارف القران
وخلاصة معنى (التامين العائلي) او( التامين علی الحياة ) : ان الذي يريد ھذا التامين يدفع الى شركة التامين اقساطاً الى مدة محددة ، فان عاش ذالك الرجل إلى تلك المدة، فانهتدفع الیہ مجموعۃ تلك الاقساط مع فائدۃ ربویۃ المدة وان مات تلک المدۃ فان الشركة تدفع إلى عائلته مبلغاً محدداً فی عقد التا میں یزیدبكثير عن المبلغ الذي كان يحصل عليه لو بقى حياً إلى المدة المحدودةوإن هذا العقد مشتمل على الربو والغرر. التامين على الاشياء ….. اما التامين على المسئوليات …. وفي كل واحد من العقدين عرر ظاهر، وفي كثير من الحالات ان العقد اشتمل على الربا ایضاً۔