بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی ، 5 بیٹے 2 بیٹیوں کے درمیان تقسیمِ میراث کی صورت

سوال

ايك شخص كا انتقال ہوگیا ہے اس کے ورثاء میں ایک بیوی ،پانچ بیٹے ، دو بیٹیاں ہیں اس میت کا کل ترکہ سترلاکھ روپے ہیں اس مال کی تقسیم کا حل مطلوب ہے۔ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

مرحوم کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ ترکہ سے پورا کیا جائے گا اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمے اگر کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے وصیت کی ہو تو ترکہ کے ثلث 3/1سے وصیت پوری کی جائے گی۔
ان تمام امور کے بعد اگر مذکورہ ور ثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو جائیداد کے کل 96 حصے کر کے ہر بیٹے کو (%14.58) حصہ دیا جائے گا جو کہ مبلغ 1020833.33 روپے ہیں اور ہر بیٹی کو (%7.29) حصہ دیا جائے گا جو کہ مبلغ510416.667 روپے ہیں اور زوجہ کو (%12.5) حصہ دیا جائے گا جو کہ مبلغ 875000 روپے ہیں۔اگر کل ترکہ 70 لاکھ ہی ہے تو اسکی تقسیم لکھ دی گئی ہے۔

ٹوٹل جائیداد: ستر لاکھ روپے (7000000)

بیٹیاں2 بیٹے2 بیوی
1020833.33 5104166.67 875000
فی بیٹی:    510416.667 فی بیٹا:   1020833.33
قال الله تعالي
{ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ۔۔۔ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ  [النساء: 11،12]
الدر المختار (544/10) رشيدیہ
فقال ( فيفرض للزوجة فصاعداالثمن مع ولدا وولدابن)۔
كتاب الاختيار (5   / 112) قدیمی
 وہم کل من لیس لہ سہم مقدر ویاخذ ما بقی من سہام ذوی الفروض واذا نفر د اخذ جمیع المال۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس