نمبر۱۔جگہ 50× 30 فٹ ورثاء : والدہ ، بیٹا ، بیٹا ، بیٹی ، بیٹی اگر قرض یا دین ہو تو کیا حکم ہے؟
نمبر۲۔ کوئی حصہ دار الگ ہونے میں مجاز با اختیار ہے ۔ اپنی مالی وسعت یا تدبیر سے دوسرے حصہ دار کو پیشکش کرسکتے ہیں ضد ، رکاوٹ ، سٹے یا کوئی قانونی چارہ کیا جاسکتا ہے۔ نیز ایسا کون کرنے کا مجاز ہے؟ نمبر۳۔ کسی کی مالی انتظامی حالت ابتر ہے تو کیا دوسرے حصہ دار تقسیم کے عمل کو مجبوراً رد کیا یا خراب کیا جانا جائز ہے؟
نمبر۱۔ مرحوم کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے مرحوم کی تجہیز وتکفین کا خرچہ ترکہ سے پورا کیا جائے گا اس کے بعد مرحوم کے ذمے اگر کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اس کے بعد اگر مرحوم نے وصیت کی ہوتو ترکہ کے ثلث سے وصیت پوری کی جائے گی۔
نمبر۲۔ ان تمام امور کےبعد اگر مذکورہ ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو جائیداد کے کل 48 حصے کرکے ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے اور مرحوم کی بیوی کو 6 حصے دیے جائیں گے۔ اگر کوئی حصہ دار اپنی رضامندی سے جائیداد سے دستبردار ہونا چاہے تو صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ترکہ میں سے کوئی بھی چیز لے کر صلح کرلےاس طرح وراثت سے اس کا حصہ ختم ہوجائے گاالبتہ کسی کے حصے کو اس کی دلی رضا کےبغیر زور ،زبر دستی سے حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔
نمبر۳۔ وراثت کو ورثاء میں فوراً تقسیم کردینا چاہیے بالخصوص جب ورثاء میں سے کوئی اس کا مطالبہ کرے،ترکہ کی تقسیم کےعمل کو بد نیتی سے روکنا یا خراب کرنا جائز نہیں ہے۔