بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میاں بیوی طلاق کے بعد مکر جائیں

سوال

بیوی دعوی کرے کہ میرے خاوند نے مجھے چار طلاقیں دی ہیں اور شوہر اس کی تصدیق کردے۔دو دن بعد دونوں مکر جائیں اور ایک طلاق پر متفق ہوجائیں اور پہلے ہم نے جھوٹ بولا یا پتہ نہیں چلا کہ کتنی دی ہیں تو کیا طلاق واقع ہوگی ؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر بیوی نے مذکورہ دعوی کیا ہو (کہ میرے خاوند نے مجھے چار طلاقیں دی ہیں ) اور شوہر نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہو تو طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی لہذا اب زوجین کا آپس میں رہنا جائز نہیں کیونکہ عورت شوہر پر حرام ہو چکی ہے ۔
لیکن اگر واقعتا زوجین نے جھوٹ بولا ہو تو تب بھی شوہر کے جھوٹے اقرار کی وجہ سے قضاء طلاق واقع ہو جائے گی اگرچہ دیانۃً طلاق واقع نہیں ہوئی قضاءً طلاق واقع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ کسی حاکم یا عدالت یا پنچایت تک پہنچا تو وقوع طلاق کا فیصلہ کیا جائے گااور چونکہ شوہر نے چار مرتبہ طلاق دینے کی تصدیق کی ہے اس لیے طلاق مغلظہ کا حکم دیا جائے گا ۔
المبسوط للسرخسي(6/170)رشیدیۃ
(قال) : وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج، والمرأة ذلك فرق بينهما؛ لأن المشهود به حرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه من غير دعوى كما لو شهدوا بحرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه بنسب أو رضاع أو مصاهرة، وهذا؛ لأنهم يشهدون أن وطأه إياها بعد هذا زنا، والشهادة على الزنا تقبل من غير دعوى فكذلك على ما يتضمن معنى الزنا، وعلى هذا الشهادة على عتق الأمة تقبل من غير دعوى، وفي الشهادة على عتق العبد اختلاف عند أبي حنيفة لا تقبل من غير دعوى وعندهما تقبل على ما نبينه في كتاب العتاق إن شاء الله تعالى۔
رد المحتار(3/36)سعید
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة۔
تبيين الحقائق(3/41)بيروت
والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس