بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جس کی آمدنی حرام ہو اس سے ہدیہ قبول کرنے کاحکم

سوال

میرے ایک دوست کا کاروبار سودی ہے عمرہ پر جانے کے بعد وہ میرے لئے جا ئے نماز اور مسواک وغیرہ لیکر آیا ہے جبکہ مجھے پتا ہے کہ اس کی کمائی سود کی ہے کیا میں اس سے جائے نماز وغیرہ لئے سکتا ہوں کہ نہیں ؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کے اس دوست کی کل یا غالب آمدنی حرام ہے تو آپ کے لئے جائے نمازوغیرہ کا ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں اور اگر غالب آمدنی حلال ہے یا وہ وضاحت کر دے کہ مذکورہ جائے نماز وغیرہ اشیا ءمیں نے حلال پیسوں سے خریدی ہیں تو ایسی صورت میں آپ یہ اشیاء قبول کر سکتے ہیں ۔
في الهنديه (5/420) بيروت
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل۔
فی الھندیه (5/422) بیروت
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس