بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مجتہد کی تعریف اور صرف اٰئمہ اربعہ کی تقلید ہی کیوں ضروری ؟

سوال

مجتہد کس کو کہتے ہیں؟ کیا ہر مجتہد کی تقلید فرض ہوتی ہے؟ ¹⁴چودہ ¹⁰⁰سو سالوں میں اسلام میں مجتہد کیا صرف⁴چار ہی ہوئے ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین کرام رحمۃ اللہ علیہم تو شاید اجتہاد کے درجہ سے محروم ہی رہے ہوں گے۔پھر ان چاروں ائمہ میں سے ایک کی تقلید کس ترجیح کی بناء پر ہے؟

جواب

مجتہد کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلمان صحیح الفہم ہو،اور اصول اربعہ(قرآن و سنت اجماع و قیاس) سے خوب واقف ہو،ناسخ ومنسوخ سے واقف ہو، لغت عربیہ صرف نحو اور بلاغت کا خوب ماہر ہو ،اور اصول فقہ سے خوب واقف ہو ،قرآن وسنت سے مسائل کے صحیح استنباط کا ملکہ اور صلاحیت بھی ہو۔ایسا شخص جب اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر قرآن وسنت سے مسائل اور اصول استنباط کرتا ہے تو اصولیین کی اصطلاح میں اس کے اس عمل کو اجتہاد اور اس شخص کو مجتہد کہتے ہیں۔اور ہر مجتہد کی تقلید ضروری نہیں ہےبلکہ ایک مجتہد کی تقلید کو فقہا کرام نےلازم قراردیا تاکہ نفس ِپرستی کا سدباب ہوسکے۔
واضح رہے کہ چودہ سو سالوں میں صحابہ اور تابعین میں سے کئی ائمہ مجتہدین گزرے ہیں چونکہ ان سب حضرات کا مذہب مدون نہ ہوسکا،اللہ تعالی کی توفیق سے صرف چار ائمہ کا مذہب ہی مدون ہوا،اسی لئے ان چارحضرات کی تقلید تمام عالم ِ اسلام میں پھیل گئی،اور لوگ انہی میں سے کسی ایک امام کی فقہ پرعمل کرنے لگے۔
سنن أبي داود (3/ 303) المكتبة العصرية، بيروت
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أراد أن يبعث معاذا إلى اليمن قال: «كيف تقضي إذا عرض لك قضاء؟»، قال: أقضي بكتاب الله، قال: «فإن لم تجد في كتاب الله؟»، قال: فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «فإن لم تجد في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا في كتاب الله؟» قال: أجتهد رأيي، ولا آلو فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم صدره، وقال: «الحمد لله الذي وفق رسول، رسول الله لما يرضي رسول الله»۔
 الموسوعة الفقہیه (1/316۔317)
الاجتہاد:اما الاصولیین فمن اذق ما عرفوہ به انه بذل الطاقة من الفقیه فی تحصیل حکم شرعی ظنی۔۔۔۔۔ اشتراط الاصولیین فی المجتہد ان  یکون مسلماً  صحیح الفہم عالماً بمصادر الاحکام من کتاب و سنة و اجماع وقیاس، وبالناسخ منھا والمنسوخ  علماً باللغة العربیة نحو وصرفھا وبلاغتھا عالماً باصول الفقه۔
فیض القدیر (1/349) دارالحدیث القاہرہ
ویجب علینا ان نعتقد ان الائمة الاربعة والسفیانین والاوزاعی وداؤدالظاہری واسحاق بن راھویه وسائرالائمة علی ھدٰی۔۔۔۔ وعلی غیرالمجتھد ان یقلد مذھباً معیناً۔۔۔۔۔۔ لکن لا یجوز تقلیدالصحابه وکذا التابعین کما قاله امام الحرمین من  کل من لم یدون مذھبه فیمتنع تقلید غیرالاربعة فی قضاء والافتاء لان المذھب الاربعة انتشرت وتحررت حتی ظھر تقیید مطلقھا وتخصیص عامھا بخلاف غیرھم لانقراض اتباعھم، وقد نقل الامام الرازی: اجماع المحققین علی منع العوام من تقلید اعیان الصحابه واکابرھم۔
الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف للدهلوي (ص: 70) دار النفائس – بيروت
وبعد المئتين ظهر فيهم التمذهب للمجتهدين بأعيانهم وقل من كان لا يعتمد على مذهب مجتهد بعينه وكان هذا هو الواجب في ذلك الزمان۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس