بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ڈوبتے چاند میں نکاح نہیں کرنا چاہیے کا حکم

سوال

میرا نکاح چاند کی 23 کو ہونا قرار پایا ہے، مگر کہتے ہیں کہ ڈوبتے چاند میں نکاح نہیں کرنا چاہیے، اس حوالے سے راہ نمائی کر دیں ۔

جواب

شریعت میں نکاح کرنے کےلئے کوئی دن مقرر نہیں ہے ،اور نہ ہی کسی دن یا تاریخ یا مہینہ میں نکاح کرنے کی شرعاً کوئی ممانعت ہے،لہذا یہ کہنا کہ” ڈوبتے چاند میں نکاح نہیں کرنا چاہئے” بلکل غلط ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے،یہ عقیدہ وخیال باطل اور قابل ِترک ہے۔زمانہ جاہلیت میں شوال کے مہینے میں نکاح کرنے کو منحوس سمجھا جاتا تھا،لیکن اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا نکاح شوال کے مہینہ میں ہوا اور رخصتی بھی شوال کے مہینہ میں ہوئی۔
فتح الملہم (6/391) مکتبة دارالعلوم کراتشی
عن عائشه قالت:تزوجنی رسول اللہﷺ  فی شوالؐ ،وبنٰی بی فی شوال،فای نساء رسول اللہﷺ  کان احظیٰ  عندہ منی؟ قال:(وکانت عائشه  تستحب ان تدخل نسائھا فی شوال.)۔
قوله:(تزوجنی رسول اللہﷺ فی شوال)الخ قال عیاض: کانت العرب  تکرہ ان تتزوج فیه، ویتطیرون ب لقوله: شالت نعامتھم وشالت النوق باذنانھا۔قال القرطبی: تطیرو بذالک:لان شوالاً من الشول، وھوالرفع والازالة، ومنه شالت النوق باذنابھا  ای: رفعت ،وقد جعل کنایة عن الھلاک، فاذا قالو:شالت نعامتھم، فمعناہ ھلکوا عن آخرھم، فکانوا یتواھمون ان المتزوجین فیه  تقع بینھماالبغضاء، وترفع، ای: تزول حظوتھا من عندالزوج۔
قوله: (کان احظٰی عندہ منی)”الخ: ای: اقرب الیه واسعدبه او اکثر نصیباً منی. قال القرطبی: قصدت بذالک الرد علی ما کانت العرب تکرہ وتطیر من الزوج فیہ، فالمعنٰی :انی تزوجت فیہ، ولم یضرنی ذٰلک، بل کنت عندہ احظٰی من غیری (کان احظٰی عندہ منی)”الخ: ای: اقرب الیه واسعدبه او اکثر نصیباً منی. قال القرطبی: قصدت بذالک الرد علی ما کانت العرب تکرہ وتطیر من الزوج فیه، فالمعنٰی: انی تزوجت فیه، ولم یضرنی ذٰلک، بل کنت عندہ احظٰی من غیری۔
قوله
(وکانت عائشه تستحب)الخ: قال النووی: فیه استحباب التزیج والتزوج والدخول فی شوال، وقد نقص اصحابنا علی استحبابه، واستدلوا بھٰذالحدیث، وقصدت عائشه بھٰذالکلام ردماکانت الجاھلیة علیه، وما یتخیله بعض العوام الیوم من کراھة التزوج والتزویج والدخول فی شوال، وھٰذا باطل لا اصل له وھو من آثارالجاھلیة، کانوا یتطیرون بذالک لما فی اسم شوال من الاشالة والرفع۔
قلت
(نعم،قصد عائشة صحیح) واما استحباب التزوج والبناء فی شوال مطلقاً، فقال الشوکانی:الحدیث انما یدل علی ذالک اذا تبین ان النبیﷺ قصد ذالک الوقت لخصوصة له لاتوجد فی غیرہ، لا اذا کان وقوع ذالک منه النبیﷺ طریق الاتفاق، وکونه بعض اجزاء الزمان. فانه لایدل علی الاستحباب، لانه حکم شرعی یحتاج الی دلیل، وقد تزوج”ﷺ” بنائه فی اوقات مختلفة علی حسب الاتفاق، ولم یتحر وقتاً مخصوصاً  ولوکان مجرداالوقوع یفید الاستحباب لکان کل وقت من الاوقات التی تزوج فیھا النبیﷺ یستحب البناء فیه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس