بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

الکوحل والی پرفیوم کا حکم

سوال

سوال۔ 1 ۔شراب حرام ہے یا ناپاک ہے.
سوال۔ 2۔ اگر شراب ناپاک ہے تو جو ہم پرفیوم لگاتے ہیں۔ اس میں بھی شراب ہوتی ہو۔ ایک دن میں ایک سپر اسٹور پر گیا وہاں جاکہ میں نے دیکھا کہ ہر پرفیوم میں شراب ۔ الکوحل کی آمیزش ہے آپ سے درخواست ہے کہ یہ جو ہم پرفیوم استعمال کرتے ہیں وہ ٹھیک ہے کہ نہیں ہماری عبادت قبول ہوگی یا اس پرفیوم کی وجہ سے وہ بھی ضائع ہوجائے گی۔ پلیز جلدی اس کے بارے میں آگاہ کرنا۔شکریہ

جواب

اگر الکوحل انگور ،کھجور یا کشمش سے بنا ہو تو وہ ناپاک اور حرام ہے۔اور آجکل پرفیوم اور ادویات وغیرہ میں جو الکوحل استعمال کیاجاتا ہےوہ عموماً چونکہ انگور،کھجور یا کشمش سے بنا ہوا نہیں ہوتا بلکہ دوسری مختلف چیزوں مثلاپھولوں،سبزیوں اور اناج وغیرہ سے بنا ہواہوتا ہےاس لیے ایساپرفیوم وغیرہ پاک ہے اور اس کا استعمال درست ہے۔البتہ کسی پرفیوم کے بارے میں یقین یا ظن ِغالب سے معلوم ہوجائے کہ اس میں انگور،کھجوریا کشمش سے حاصل کردہ الکوحل ہی ہے تو پھر اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔
تکملۃ فتح الملھم (3/337 تا342) دارالعلوم کراتشی
الاول؛ النیء من ماء العنب اذا اژتدوغلاوقذف بالزبد۔۔۔فیحرم قلیله وکثیرہ۔۔۔وھو نجس العین لا یجوزبیعه وشراءہ۔
والثانی:الاشربة الثلاثة المحرمة وحو الطلاء۔۔۔ نقیع التمر۔۔۔نقیع الزبیب۔۔۔۔وان ھذہ الاشربة  خمر عند ابی حنیفة رحمه اللہ تعالی فی الصحیح  فلذالک ھی حرام نجسة۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویجوز بیعھا عند ابی حنیفة رحمه اللہ خلافاً لصاحبیه۔ والقسم الثالث: الاشربة المسکرۃ الاخرٰی۔۔۔ وانما یحرم منه القدرالمسکر۔۔۔ وبھذا یتبین حکم الکحول المسکرۃ(AL COHALS)  التی عمت بھا البلوٰی الیوم، فانھا تستعمل فی کثیر من الادویة والعطور،والمرکبات الاخرٰی،فانھا ان اتخذت من العنب اوالتمرفلا سبیل الٰی حلتھا او طھارتھا،وان اتخذت من غیرھما فالامر فیھا سھل علٰی مذھب ابی حنیفة رحمه اللہ تعالٰی، ولا یحرم استعمالھا للتداوی او لاغراض مباحة اخرٰی ما لم تبلغ حدالاسکار، لانھا انما تستعمل مرکبة مع المواد الاخرٰی ،ولا یحکم بنجاستھا۔
الفتاوى الهندية (1/51) بیروت
كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم. كذا في البحر الرائق. وكذا دم الحيض والنفاس والاستحاضة هكذا في السراج الوهاج وكذلك بول الصغير والصغيرة أكلا أو لا. كذا في الاختيار شرح المختار وكذلك الخمر والدم المسفوح ولحم الميتة وبول ما لا يؤكل والروث وأخثاء البقر والعذرة ونجو الكلب وخرء الدجاج والبط والإوز نجس نجاسة غليظة هكذا في فتاوى قاضي خان۔
الہدایة مع فتح القدير للكمال ابن الهمام (10/ 115) رشیدیة
(وقال في الجامع الصغير: وما سوى ذلك من الأشربة فلا بأس به) قالوا: هذا الجواب على هذا العموم والبيان لا يوجد في غيره، وهو نص على أن ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند أبي حنيفة، ولا يحد شاربه عنده وإن سكر منه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس