بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نہروں سے پانی لینا

سوال

آج کل نہروں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہوتا جو ضائع ہو جاتا ہے نہر کا بیلدار ایک آدمی سے کہتا ہے کہ آپ پائپ لگا کر پانی نکال لیں تو کیا اس آدمی کے لیے پانی نکالنا جائز ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

مذکورہ صورت میں اپنی یا جانوروں کی ضرورت کے لیےپانی لے سکتے ہے،لیکن حکومت کی اجازت کے بغیر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی لینا جائز نہیں ہے۔
تکملة فتح الملھم (1/333) مکتبه دار العلوم کراتشی
واما الانھارالصغیرۃ التی تکریھا الحکومات لسقی المزارع ۔فانھا مملوکة للحکومات، وقیاس ماذکرنا ان یکون ماؤھا فی حکم ماء البئر المملوکة، فلا یجوز للحکومة ان تمنع احدا من الشرب او من سقی الدوابه منھا، ولکنھا تستطیع ان تمنع من سقی مزارعھم منھا۔
الفتاوی الھندیة (5/375) دارالکتب العلمیة
والثالث ما يجري على نهر خاص لقرية فلغيرهم فيه شركة في الشفة وهو الشرب وسقي الدواب۔
در المختار (10/23،24) رشیدیة
(نهر بين قوم اختصموا في الشرب فهو بينهم على قدر أراضيهم) لأنه المقصود (بخلاف اختلافهم في الطريق فإنهم يستوون في ملك رقبته) بلا اعتبار سعة الدار وضيقها لأن المقصود الاستطراق (وليس لأحد من الشركاء) في النهر (أن يشق منه نهرا أو ينصب عليه رحى) إلا رحى وضع في ملكه ولا يضر بنهر ولا بماء. ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس