بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد میں چندہ کرنا، مدارس ومساجد کےنام پر چندہ مانگنے والوں کو چندہ دینا

سوال

نمبر۱۔ آج کل مساجد میں نماز کے بعد کسی مسجد, مدارس وغیرہ کےلیے چندہ مانگا جاتا ہے، جس میں یہ معلوم نہیں ہوتاکہ کون صحیح اور کون غلط ہے, کیا ان کو چندہ دینا درست ہے؟
نمبر۲ ۔دوسری بات کہ چندہ مانگنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ آیا چندہ دینے والے کا مال حلال ہے یا حرام, کیا ان کا ایسا جمع کیا ہوا چندہ مدارس کے طلبہ پر صرف کرنا درست ہے؟
نمبر۳۔تیسری بات کیا اس طرح مساجد میں اعلانیہ چندہ مانگنا صحیح ہے؟ کیا یہ مساجد کے بے حرمتی میں شمار نہیں ہوگا؟ ۔راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

نمبر۱۔آپ کو جس پر اعتماد ہو اس کو ہی چندہ دیں۔
نمبر۲۔عام طور پر مسلمانو کا مال حلال ہوتا ہے ،لہذا چندہ کرنے والے پر لوگو ں کے مال کی تحقیق ضروری نہیں ،اور ایسا چندہ طلبہ پر خرچ کرنا جائز ہے۔البتہ کسی شخص کے بارے میں یقینی طور پر علم ہو کہ اس کا اکثر مال حرام ہے تو ایسے شخص سے چندہ لینے سے احتراز ضروری ہے۔
نمبر۳۔کسی دینی ضرورت کے لئے مسجد میں چندہ کرنے کی گنجائش ہے تاہم اس میں مندرجہ ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
الف)خطبے کے دوران چندہ نہ کیا جائے۔
ب)چندہ مانگتے ہوئے مسجد میں شور و شغب نہ ہو۔
ج)چندہ کرنے والا نمازیوں کے آگے سے نہ گزرے، اور نہ ہی کندھوں کو پھلانگے ۔
نیز چندہ جمع کرنے کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے دین اور اہل دین کی تحقیر لازم آئے ،درست نہیں ،بلکہ مناسب طریقے سے لوگوں کو ضرورت کے متعلق آگاہ کر دیا جائے ۔
تفسير الخازن (4/ 182) دار الكتب العلمية
 قال سفيان الثوري: الظن ظنان: أحدهما: إثم، وهو أن يظن ويتكلم به والآخر ليس بإثم وهو أن يظن ولا يتكلم به. وقيل: الظن أنواع فمنه واجب ومأمور به وهو الظن الحسن بالله عز وجل ومنه مندوب إليه وهو الظن الحسن بالأخ المسلم الظاهر العدالة ومنه حرام محظور وهو سوء الظن بالله عز وجل وسوء الظن بالأخ المسلم وَلا تَجَسَّسُوا أي لا تبحثوا عن عيوب الناس نهى الله عن البحث عن المستور من أمور الناس وتتبع عوراتهم حتى يظهر على ما ستره الله منها (ق). عن أبي هريرة أن رسول الله صلّى الله عليه وسلّم قال: «إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث ولا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا كما أمركم المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره التقوى هاهنا التقوى هاهنا ويشير إلى صدره التقوى هاهنا۔
صحيح البخاري (كتاب العيدين،باب الخطبه بعد العيد)
عن ابن عباس: «أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوم الفطر ركعتين لم يصل قبلها ولا بعدها، ثم أتى النساء ومعه بلال، فأمرهن بالصدقة، فجعلن يلقين تلقي المرأة خرصها وسخابها»۔
الدر المختار (1/ 659) سعيد
ويحرم فيه السؤال، ويكره الإعطاء مطلقا، وقيل إن تخطى۔
 [رد المحتار]
(قوله وقيل إن تخطى) هو الذي اقتصر عليه الشارح في الحظر حيث قال: فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس في المختار لأن عليا تصدق بخاتمه في الصلاة فمدحه الله تعالى بقوله{ويؤتون الزكاة وهم راكعون} [المائدة: 55]- ط ۔
الدر المختار (2/ 164) سعيد
ويكره التخطي للسؤال بكل حال۔
الدرالمختار
 (قوله ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس