بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سبقت لسانی سے کفریہ کلمہ کہنے کا حکم

سوال

کیا اگر انسان کی زبان سے بلا ارادہ کوئی کفریہ جملہ نکل جائے یا یہ کہ وہ کہنا کچھ اور چاہتا تھا مگرکچھ اور نکل گیا تو کیا وہ آدمی کافر ہو جاتا ہے ؟ اور اگر ایسی بات ہے تو کیا دوبارہ خود ہی کلمہ پڑھنے سے وہ دوبارہ مسلمان ہو گا؟ اور کیا اگر شادی شدہ ہے تو دوبارہ نکاح کرنا ہو گا یا نہیں؟

جواب

اگر بلا ارادہ یا سبت لسانی کی وجہ سے کوئی کفریہ کلمہ زبان سے نکل جائےتو اس سے آدمی کافر نہیں ہوتا۔نہ تجدید ایمان کرنا ہوگا نہ ہی تجدید نکاح کی ضرورت ہے ۔
رد المحتار (6/346) رشیدیة
والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل۔
الفتاوی الھندیة (2/296) دارالکتب العمیة
الخاطئ إذا أجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بأن كان يريد أن يتكلم بما ليس بكفر فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ لم يكن ذلك كفرا عند الكل كذا في فتاوى قاضي خان۔
رد المحتار (6/377) رشیدیة
وزاد فيها قسما ثالثا فقال: وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس