بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تم مجھ سے آزاد ہو جہاں مرضی ہےچلی جاؤ کا حکم

سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ موبائل مجھے دے دو اس کے موبائل نہ دینے پر شوہر نے کہا ” تم مجھ سے آزاد ہو جہاں مرضی ہے چلی جاؤ اور ان الفاظ سے اس کی نیت طلاق کی تھی تو اس صورت میں کیا حکم ہے اور کیا کرنا چاہئے؟ مہربانی فرما کرجواب عنایت فرمائیں۔

جواب

عرفِ عام میں لفظ آزاد کے استعمال کے لحاظ سے مختلف مواقع میں مختلف احوال ہیں ، اور شرعاً ان کے احکام بھی مختلف ہیں۔ چونکہ صورتِ مسئولہ میں شوہر کے الفاظ ” تم مجھ سے آزاد ہو جہاں مرضی سے چلی جاؤ ” طلاق میں صریح ہیں لہذا شوہر کے ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گی۔ شوہر کو عدت میں رجوع کرنے کا اختیار ہو گا اور رجوع کیے بغیر عدت گزر گئی تو باہمی نکاح ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اگر ایک ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کر ناضروری ہو گا اور اس صورت میں آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا، بشر طیکہ کوئی اور طلاق نہ دی ہو۔
رد المحتار (299/3) سعيد
فإذا قال ” رها كردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح مالم يستعمل ألا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به  البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي۔
الفتاوى الهندية (1/ 379) رشيدية
ولو قال الرجل لامرأته: ترا جنك باز داشتم أو بهشتم أو يله كردم ترا أو باي كشاده كردم ترا فهذا كله تفسير قوله طلقتك عرفا حتى يكون رجعيا ويقع بدون النية كذا في الخلاصة۔
خلاصة الفتاوي(2/99) رشيدية
ولو قال الرجل لامرأته: ترا جنك باز داشتم أو بهشتم أو يله كردم ترا أو باي كشاده كردم ترا فهذا كله تفسير قوله طلقتك عرفا حتى يكون رجعيا ويقع بدون النية۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

18

/

57

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس