عرفِ عام میں لفظ آزاد کے استعمال کے لحاظ سے مختلف مواقع میں مختلف احوال ہیں ، اور شرعاً ان کے احکام بھی مختلف ہیں۔ چونکہ صورتِ مسئولہ میں شوہر کے الفاظ ” تم مجھ سے آزاد ہو جہاں مرضی سے چلی جاؤ ” طلاق میں صریح ہیں لہذا شوہر کے ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گی۔ شوہر کو عدت میں رجوع کرنے کا اختیار ہو گا اور رجوع کیے بغیر عدت گزر گئی تو باہمی نکاح ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اگر ایک ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کر ناضروری ہو گا اور اس صورت میں آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا، بشر طیکہ کوئی اور طلاق نہ دی ہو۔
رد المحتار (299/3) سعيد
فإذا قال ” رها كردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح مالم يستعمل ألا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي۔
الفتاوى الهندية (1/ 379) رشيدية
ولو قال الرجل لامرأته: ترا جنك باز داشتم أو بهشتم أو يله كردم ترا أو باي كشاده كردم ترا فهذا كله تفسير قوله طلقتك عرفا حتى يكون رجعيا ويقع بدون النية كذا في الخلاصة۔
خلاصة الفتاوي(2/99) رشيدية
ولو قال الرجل لامرأته: ترا جنك باز داشتم أو بهشتم أو يله كردم ترا أو باي كشاده كردم ترا فهذا كله تفسير قوله طلقتك عرفا حتى يكون رجعيا ويقع بدون النية۔