بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اقامت میں تحویل وجہہ (چہرہ پھیرنا)

سوال

کیا اقامت میں سر پھیرنا سنت ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟

جواب

بعض کتب فقہ میں اقامت میں حیعلتین(حی علی الصلوۃ،حی علی الفلاح) کہتے وقت چہرہ پھیرنے کو مسنون لکھا ہے لیکن صحیح قول کے مطابق مسنون نہیں ،البتہ چہرہ پھیرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔لہذا اس کے اہتمام میں اصرار اور شدت نہیں کرنی چاہئے(یعنی جو کرنا چاہے توکرسکتا ہےاور جو کرے اسے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں)
الدرالمختار (1/ 387)
(ويلتفت فيه) وكذا فيها مطلقا، وقيل إن المحل متسعا (يمينا ويسارا) فقط؛۔
وفی حاشیه ابن عابدین (1/387) سعید
(قوله وکذا فیھا مطلقا)ای فی الاقامة سواٰء  کان المحل مسعاً او لا۔
البحر الرائق (1/450) رشيدية
 وأطلق في الالتفات ولم يقيده بالأذان وقدمنا عن الغنية أنه يحول في الإقامة أيضا وفي السراج الوهاج لا يحول فيها؛ لأنها لإعلام الحاضرين بخلاف الأذان فإنه إعلام للغائبين، وقيل يحول إذا كان الموضع متسعا۔
  السعاية (2/18) سهيل آكيدمي
هل يحول وجهه في الإقامة أيضا؟ فيه ثلاثة أقوال: الأول: أنه لايحول… الثاني: أنه يحول فيها لو المحل متسعا وإلا فلا. الثالث: أنه يحول فيها مطلقا متسعا كان أولا… قلت: والحق الصريح هو القول الأول۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

18

/

47

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس