ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں ہمارے علاقہ میں مسجد پر مرزائیوں کا قبضہ تھا نماز پڑھنے کے لئے ایک صاحب نے زمین ہبہ کردی اور اس میں محلہ والوں نے نماز ادا کر نا شروع بھی کر دی تھی ، اب وہ مسجد مرزائیوں سے آزاد کرالی ہے۔ اور اس میں نمازیں پڑھنا پڑھانا شروع کر دی گئی ہیں آیا پو چھنا یہ چاہتے ہیں کہ اس نئی مسجد کا کیا حکم ہے اور اس کے ساز و سامان کو پرانی مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں اور اسی طرح مسجد والی زمین کو بیچ کر دوسری مسجد میں خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں۔
جو جگہ ایک مرتبہ مسجد بن جائے قیامت تک وہ مسجد ہی رہتی ہے ، اس کو منتقل کرنا یا اس کو فروخت کا کرنا جائز نہیں۔ البتہ ایسا مسجد کا سامان جو مسجد کی ضروریات سے قطعی طور پر زائدہو تو اس کو کسی دوسری مسجدمیں لگانے کی گنجائش ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں دونوں مسجدیں مساجد شرعیہ ہیں ، لہذا ان میں سے کسی ایک کو فروخت کرنا یااس کو کسی اور استعمال میں لانا جائز نہیں بلکہ ان دونوں مساجد کو آباد رکھا جائے۔
البحر الرائق (421/5) رشيدية
وقال ابو يوسف : هو مسجد ابدا إلى قيام الساعة لا يعود مير اثا ولا يجوز نقله و نقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه اولا وهو الفتوى: كذافي الحاوي القدسي وفي المجتبى : واكثر مشائخ علی قول ابی یوسف ،ور جح في فتح القدير قول ابني يوسف بانه الأوجه۔
الدر المختار (550/6) رشيدية
ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجد أ عند الامام، والثاني ) ابدا الى قيام الساعة (و به يفتي) حاوی القدسی (و عاد الى الملک) ای ملک البانی او ورثته ( عند محمد) وعن الثاني ينقل إلى مسجد اخر با ذن القاضي (ومثله ) في الخلاف المذكور ( حشيش المسجد و حصره مع الاستثناء عنهما )۔
رد المحتار (551/6) رشیدیة
(ومثله حشيش المسجد الخ) أي: الحشيش الذي يفرش بدل الحصير، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما اخبرني به بعضهم قال الزيلعي وعلى هذا حصير يوسف : ينقل إلى مسجد آخر .. وصرح في الخانيه بان الفتوى على قول محمد۔ قال في البحر: وبه علم ان الفتوى على قول محمد في آلات المسجد، و على قول ابي يوسف في تاييد المسجد۔