بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق ،طلاق، طلاق میرا زیوردو اور اپنا سامان لے جاؤ” سے طلاق ثلاثہ کا وقوع”

سوال

ایک مسئلہ میں راہ نمائی مطلوب ہے۔ میرےبھائی بیرون ملک بسلسلئہ ملازمت قیام پذیرہیں۔ انہوں نےٹیلی فون پراپنی بیگم کولڑائی اورغصہ کی حالت میں طلاق کےالفاظ بولےہیں۔ان کی بیوی کابیان یہ ہےکہ مجھےیہ الفاظ کہے”طلاق طلاق طلاق۔ آپ میرےاوپرتینوں شرائط کےطلاق اپناسامان لےجاؤ اورمیرازیوردےدو”۔
جبکہ شوہرکابیان یہ ہےکہ میں نےیوں کہا”طلاق طلاق طلاق میرا زیوردو اوراپناسامان لےجاؤ”۔
اب وہ آپس میں صلح کرنےکےلئےآمادہ ہیں۔ کیاصورت مذکورہ میں کوئی گنجائش ہے کہ وہ آپس میں رجوع کریں۔وضاحت: عورت کی رخصتی ہوئی ہے اوراولاد بھی ہے۔

جواب

مذكوره صورت ميں شوہر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں جس کا حکم یہ ہے کہ عورت پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔لہذا میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں۔ اس صورت میں نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ صورتِ حال میں نیانکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنے اولیاء کی سرپرستی میں جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اب اگر عدت ِ طلاق گزرنے کے بعد کسی دوسرےشخص سے نکاح کرلے اورہمبستری بھی ہوجائے پھردوسرے شوہرکا انتقال ہوجائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دے دے تو عدت گزرنے کے بعد پہلےشوہر کے ساتھ نئے مہر کے عوض نیا نکاح کرناجائز ہو گا ۔ واضح رہے کہ حلالہ کی شرط پر دوسری جگہ شادی کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔
الدر المختار (3/ 293)
[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين۔
رد المحتار (3/ 293)
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد۔
الفتاوى الهندية (1/ 355)
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالقفقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق أو طلقتك أنت طالق۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس