سوال ، اور سائل سے زبانی گفتگو سے یہ بات واضح ہوئی کہ سائل اپنے کاروبار میں اپنے بیٹے کا حصہ بڑھانا چاہتا ہے ، جس کے لئے سوال میں ذکر کردہ طریقہ شرعاً درست نہیں ہے ، اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ ہدیۃً دی جانے والی رقم کاروبار سے الگ کر کے بیٹے کو مالک و قابض بنا کردی جائے ،لیکن اگر اس طرح کرنا کسی وجہ سے دشوار ہو توآپ سارےکاروبار کی مالیت لگا کر اس کے لحاظ سے کل کاروبارمیں سے مزید جتناحصہ بیٹے کو دینا چاہیں ،اتنی معلوم مالیت کا حصہ معلومہ اس کو بیچ دیں ، پھر آپ اس کی قیمت اس کو معاف کردیں ۔ اس کے نتیجہ میں بیٹے کا حصہ بڑھ جائے گا۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970ھ)(7/286)دارالكتاب الإسلامي
فأفاد أنه لو قبضه مشاعا لا يملكه فلا ينفذ تصرفه فيه لأنها هبة فاسدة مآلا وهي مضمونة بالقبض ولا تفيد الملك للموهوب له وهو المختار فلو باعه الموهوب له لا يصح كذا في المبتغى بالمعجمة۔
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(4/377)دارالفكر
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك۔
بدائع الصنائع،العلامةعلاء الدين، الكاساني(م:587ھ)(6/120)دارالكتب العلمية
ألا ترى أنه يجوز بيع المشاع وكذا هبة المشاع فيما لا يقسم وشرطه هو القبض والشيوع لا يمنع القبض لأنه يحصل قابضا للنصف المشاع بتخلية الكل ولهذا جازت هبة المشاع فيما لايقسم وإن كان القبض فيهاشرطالثبوت الملك كذاهذا۔