میری اپنی وائف کے ساتھ بحث ومباحثہ ہوا ،تو میں نے غصہ میں “طلاق دےدی ،طلاق دےدی “کہہ دیا تھا ،اس کے پانچ دن بعد انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی اور ہم نے رجوع کرلیا تھا۔اس بات کو تقریبا،6،ماہ ہو گئے ہیں ،اور پانچ ماہ بعد میکے چلی گئی ہے اور اب ان کے گھر والےکہہ رہے ہیں کہ پہلے فتویٰ لاؤ اس کے بعد لڑکی کو بھیجیں گے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے اور واقعۃً آپ نے “طلاق دے دی” کے الفاظ صرف دو مرتبہ کہے تھےاس سے زیادہ مرتبہ نہیں کہے ،نیز اگراس واقعہ سے پہلے یا بعد میں بھی کسی موقع پر آپ نے اپنی بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ تحریری یا زبانی طور پر استعما ل نہیں کیے ،تو ایسی صورتِ حال میں آپ کی بیوی پر صرف دو طلاقیں واقع ہو ئیں ،اور آپ کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل تھا ،لہٰذا مذکورہ واقعہ کے پانچ دن بعد آپ کا رجوع کرنا شرعا درست اور معتبر ہے، اورآپ کا نکاح باقی ہے ۔البتہ آئندہ آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے اس لیے طلاق کے معاملہ میں بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔