بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

زندگی میں بغیر قبضہ کےنام کردینا

سوال

ایک شخص کے 5 بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔اس نے اپنی زندگی میں زرعی زمین کا زیا دہ حصہ بیٹوں کے نام لگا دیا جبکہ بیٹی کو 2/1 حصہ کی بجائے کا فی کم دیا ۔انہوں نے اپنی زندگی میں نام تو لگا دی مگر کسی کو قبضہ نہ دیا ،بلکہ تمام عمر خود ہی زمین اپنے قبضہ میں رکھی ،جب ان کی وفات سن 90 ءکی دھائی میں ہوئی تو اس کے بعد زمین ٹھیکہ پر دی گئی اور رقم شریعت کے مطابق آج تک تقسیم ہو رہی ہے یعنی بہن کو 2/1 حصہ ۔اس دوران ایک عدد مکا ن بھی فروخت ہوا اس کی رقم بھی شریعت کے مطا بق یعنی بھائی کا ایک حصہ اور بہن کا 2/1 حصہ ہے ،یہ سب بہن بھائیوں کا متفقہ فیصلہ تھا ۔اب زرعی زمین کا ایک حصہ فروخت ہو رہا ہے ۔زمین میں بھائیو ں کا تھوڑے سے فرق سے تمام کا حصہ برابر ہے جبکہ بہن کا حصہ 2/1 کی بجائے کا فی کم ہے ۔
اگر والد صاحب نے تقسیم میں کچھ فرق رکھا تو کیا اب جبکہ زمین فروخت ہو رہی ہے اس فرق کو بیٹوں کو چاہئے کہ شریعت کی رو سے ہونی چا ہئے یا نہیں، اگر ایسا نہ ہوتو کیا والد صاحب پر اس کا اثر پڑے گا یا پھر شریعت کی رو کے مطابق بھائیوں کا ایک بہن کا 2/1 حصہ ہوگا۔

جواب

مذکورہ صورت میں مرحوم نے اپنی زندگی میں زمین تقسیم کر کے با قاعدہ بیٹوں اور بیٹی کے قبضہ میں نہیں دی اس لئے یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا بلکہ مذکورہ زمین مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی اس لئے اس کو وراثت کے شرعی اصولوں کے مطا بق ہی تقسیم کرنا ہوگا ۔ بیٹی کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرنا ہر گز جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور حرام مال کے اثرات نسلوں میں بھی منتقل ہو تے ہیں، اگر ایسا کیا تو اللہ تعالی کی طرف سے سخت پکڑ کا اندیشہ ہے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں بیٹی کواس کا پورا حصہ دینےسے ا للہ کی رحمت سے امید ہے کہ مرحوم کو بھی راحت نصیب ہوگی۔
مشكاة المصابيح،محمد بن عبد الله الخطيب(م: 74ھ)(1:266)اسلامی کتب خانہ
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة». رواه ابن ماجه۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(5/690)سعید
(وتتم)الهبة(بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا بھ) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا. ۔
 السنن لأبي عبد اللہ محمد، ابن ماجہ،(م: 273ہـ)(2/902)دارإحياء الكتب العربية
          عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم: «من فر من ميراث وارثہ، قطع اللہ ميراثہ من الجنة يوم القيامة»۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس