بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تقسیم میراث (5بھائی 2بہنیں، 3باپ شریک بہنیں)

سوال

ہمارے والد صاحب نے دوشادیاں کی تھیں ، والد اور دونوں والدہ فوت ہوچکے ہیں ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ایک والدہ سے پیدا ہوئے ہیں جبکہ دوسری والدہ سے چھ بھائی اور دو بہنیں پیدا ہوئیں ۔اس وقت صورت ِحال یہ ہے کہ ہم تین بہنوں کے بھائی بھی فوت ہوچکے ہیں لیکن ان کی میراث کا مسئلہ معلوم کرنا مقصود نہیں اور نہ ہی والدین کی میراث کا ۔
پوچھنا یہ ہے کہ دوسری والدہ سے جوہمارے چھ بھائی اور دو بہنیں ہیں ان میں سے ایک بھائی کا مارچ 2018میں انتقال ہوا جس کی بیوی کو پہلے ہی طلاق ہو گئی تھی اور اس کی کوئی اولادنہیں ہے ، ذکر کردہ تفصیل کی روشنی میں ان کے شرعی وارث کون ہیں اور ا ن کے درمیان وراثت کیسے تقسیم ہوگی ۔
اسی طرح ہم تین بہنوں میں سے ایک غیر شادی شدہ بہن کا 30 /اگست/ 2018ءکو انتقال ہوا ہے، ان کے شرعی وارثوں میں اس کی میراث کس طرح تقسیم کی جائے گی۔

جواب

نمبر 1- صورت مسئولہ میں آپ کے علاتی (باپ شریک )بھائی نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،مکان اور پلاٹ ،نقد رقم ،سونا ،چاندی ،کپڑے اور برتن وغیرہ اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا ہے ،نیز مرحوم کا وہ قرض جو کسی شخص یا ادارے کے ذمہ واجب الادا ء ہووہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ۔ اس میں سے سب سےپہلےمرحوم کے کفن ودفن کے متوسط اخراجات اداکیے جائیں ، اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطورِاحسان اداکردیے ہوں تو مرحومہ کے ترکہ سے یہ اخراجات نہیں نکالے جائیں گے ۔اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو یا بیوی کا مہر واجب الاداء ہو تو اس کو مرحوم کے ترکہ سے اداکیاجائے۔پھر دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہےتوبقیہ ترکہ کے ایک تہائی (3/1) حصہ کی حد تک اس پر عمل کیاجائے۔ اس کے بعد جومال بچے اس کے کل بارہ (12)برابر حصے کرکے ہر حقیقی بھائی کو دو (2) اور ہر حقیقی بہن کو ایک (1)حصہ دے دیں ، واضح رہے کہ سگے بھائی موجود ہونے کی وجہ سے شرعاً باپ شریک بہنیں محروم ہو جاتی ہیں؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں باپ شریک بھائی کے ترکہ میں آپ تینوں بہنیں شرعاً حق دار نہیں ۔

تقسیم میراث کا نقشہ ذیل میں ملاحضہ فرمائیں ۔

     مسئلہ: 12

باپ شریک بہنیں 3 حقیقی بہنیں 2 حقیقی بھائی5
محروم عصبہ
  12
  2 10

حقیقی بھائی فی کس حصہ:2

حقیقی بہن فی کس حصہ:1

      نمبر2- آپ کی مرحومہ حقیقی (سگی )بہن نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،مکان اور پلاٹ ،نقد رقم ،سونا ،چاندی ،کپڑے اور برتن وغیرہ اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا ہے ، نیز مرحوم کا وہ قرض جو کسی شخص یا ادارے کے ذمہ واجب الادا ء ہووہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ۔اس میں سے اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق تینوں حقوق (کفن ودفن ،واجب الاداء قرض اور غیر وارث کے لیے وصیت )کی ادائیگی کے بعد جو مال بچے اس کے کل چھتیس (36)برابر حصے کر کے ہر سگی بہن کو بارہ (12)حصے ،ہر باپ شریک بھائی کو دو (2)حصے اور ہر باپ شریک بہن کو ایک(1)حصہ دے دیں۔

تقسیم میراث کا نقشہ ذیل میں ملاحضہ فرمائیں ۔

مسئلہ: 3 تصحیح36                                         مضروب12

باپ شریک بہنیں2 باپ شریک بھائی 5 حقیقی بہنیں 2
عصبہ عصبہ ثلثان
1 2
12 24

 حقیقی بہن فی کس حصہ :12

 باپ شریک بہن فی کس حصہ:1۔

 باپ شریک بھائی فی کس حصہ :2

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

6

/

78

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس